تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 669
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد ہفتم خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء انٹرویوز تھے ، 49 گھنٹے تمہیں منٹ کے، ان کے علاوہ خطبات جمعہ اور مجالس عرفان ( جن کو سوال وجواب کی مجالس کہا جاتا ہے) ان کی کیسٹ پر مشتمل ایک سو، نو گھنٹے کے پروگرام ٹیلی ویژن سٹیشنوں سے دکھائے جا چکے ہیں۔99 پروگرام وہ ہیں، جو جماعتوں کے مقامی طور پر نشر ہو چکے ہیں، یہ ان کے علاوہ ہیں۔یہ 109 اور 49 گھنٹے یہ صرف میرے پروگراموں کے ہیں۔جماعت نے جو مقامی طور پر پروگرام بنائے ہیں، ان کی تعداد 99 ہے، جو ٹیلی ویژن سٹیشنوں پر پیش ہو گئے ہیں۔اور مجموعی طور پر 216 پروگرام پچھلے سال کے اندر خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹیلی ویژن کے ذریعے دکھائے گئے ہیں۔کینیڈا میں سکاٹون ، دنی پیگ، برانٹ فورڈ، ایڈمنٹن ٹورانٹو پانچ ٹیلی ویژن سٹیشنوں پر 30 گھنٹوں کا پروگرام نشر ہوا ہے۔ریڈیو کے ذریعے خدا تعالیٰ کے فضل سے مختلف ممالک میں 348 پروگرام نشر ہوئے ہیں۔ان ممالک میں آئیوری کوسٹ ، سپین، ماریشس، ہالینڈ، توالو، آسٹریلیا، بھارت، امریکہ، زائر اور ڈنمارک بھی شامل ہیں۔ناروے میں خدا تعالٰی کے فضل سے جماعت احمدیہ کا مستقل نشریاتی پروگرام "ریڈیو اسلام کے نام سے جاری ہے اور ہر ہفتے اللہ کے فضل کے ساتھ نارویجین زبان میں بھی اور اردو زبان میں بھی کثرت کے ساتھ اشاعت احمدیت کی توفیق مل رہی ہے۔چنانچہ سال زیر نظر میں نارو تکین زبان میں ریڈیو اسلام کے ذریعے 52 پروگرام پیش ہو چکے ہیں۔جماعت احمدیہ کو اپنا سٹوڈیو تیار کرنے کی توفیق مل گئی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جو دوسرے سٹوڈیو میں جا کر پروگرام تیار کرنے کی وقتیں تھیں، وہ دور ہوگئی ہیں۔جو محفوظ اندازہ لگایا گیا ہے، ٹیلی ویژن اور ریڈیوسٹیشنوں کے اپنے منتظمین کے ذریعے اس کے مطابق امسال مختلف ممالک میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے ایک کروڑ سے زائد افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا ہے۔اخبارات کے ذریعہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر میں جماعت کے پیغام اور دین حق کے متعلق غیروں کی پیدا کردہ غلط فہمیاں دور کرنے کی بہت عظیم الشان توفیق ملتی رہی۔امسال دنیا بھر کے 168 اخبارات میں جماعت احمدیہ کے متعلق 679 خبریں اور مضامین شائع ہوئے اور بعض اخبارات نے اداریے بھی لکھے۔میرے دورہ کینیڈا کے وقت پاکستان سے علماء کا ایک ٹولہ وہاں پہنچا اور اس نے وہاں احمدیت کے خلاف شدید نفرت پیدا کرنے کی مہم چلائی۔جب میں وہاں گیا تو مختلف اخباروں کے نمائندے، ایڈیٹر وغیرہ اس سلسلے میں مجھ سے ملنے آئے اور انٹرویو لئے۔چنانچہ جب ان کو صحیح صورت حال کا علم ہوا تو انہوں نے بہت ہی شاندار مضامین جماعت احمدیہ کے دفاع میں لکھے۔اور ایک مثلم THE GLOBE AND MAIL، وہاں کا ایک مشہور اخبار ہے، اس نے پہلے صفحے پر چار کالمی سرخی لگا کر 669