تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 659 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 659

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء دیا۔وہاں ایک عیسائی پادری نے آکر چیلنج کیا کہ کون ہے، جو میرے مقابل پر آکر دین حق کی تعلیم پیش کر سکے؟ اور اعلان کرتا تھا کہ میں ہر ایک کو شکست دیتا ہوں۔چنانچہ مقامی مولوی ہار گئے اور اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔اس دوست نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہا کہ عیسائیت کے مقابل پر صرف احمدی ہی کامیاب ہوسکتا ہے، مجھے موقع دو۔چنانچہ ان کو گاؤں والوں نے موقع دیا۔چند سوالات انہوں نے کئے، عیسائی پادری سے اور وہ یہ کہہ کر کھڑا ہو گیا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، میں آپ سے گفتگو نہیں کر سکتا۔لہذاوہ سارا گاؤں، جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، جو پہلے ان کا مخالف تھا، انہوں نے ان کو اپنا لیڈر بنالیا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جو بھی کتابیں یہ وہاں لے کر جاتے ہیں، وہ مفت تقسیم نہیں کرتے بلکہ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہیں اور دعوت الی اللہ کی ایک رو چل پڑی ہے۔بنگلہ دیش میں بھی پاکستان کے علماء پہنچے اور وہاں بھی مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کیا۔خصوصاً جو برہمن بڑیہ کا علاقہ ہے۔خدا تعالیٰ مخالفتوں کے اندر سے ہی بعض دفعہ رحمتوں کے چشمے جاری فرما دیتا ہے۔اور جو مظلوم ہیں، ان کی آہیں رنگ دکھا دیتی ہیں۔چنانچہ ایک گاؤں کے متعلق لکھا ہے کہ اس جگہ چار احمدی بھائی تھے۔ان کو گاؤں والوں نے ایک عالم اور ایک با اثر شخص کی سرکردگی میں اتنا مارا اور اتنی کلہاڑیاں لگائیں اور دوسرے تیز دھار آلوں سے حملہ آور ہوئے کہ گویا ان کے جسموں کا چپہ چپہ زخموں سے بھر گیا۔اور اتنا خون بہا کہ جماعت کی پہلی رپورٹ یہ تھی کہ ان کے بچنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں آتی ، دعا کریں۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، وہ چاروں دوست ان زخموں کے نتیجے میں ہلاک ہونے کی بجائے صحت مند بھی ہو گئے۔اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جومخالفتوں کے لیڈر تھے، پیشتر اس کے کہ ان کے بدن اچھے ہوں، ان کی اپنی روحیں شفا پا گئیں اور وہ احمدیت میں داخل ہو گئے۔اور چھ ایسے دوست، جن میں سے ایک الحاج ہیں اور علاقے پر بڑا رسوخ رکھتے ہیں اور مخالفت کے لیڈر تھے اور ایک اہل حدیث مسجد کے امام، جوان کو مروانے میں سب سے پیش پیش تھے، یہ دونوں اب خدا کے فضل سے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بھی بہت سی خدمتیں ہیں، داعین الی اللہ کی۔یہ مختلف جھگڑوں کو طے کروانے میں مدد کرتے ہیں، اصلاح معاشرہ کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا نیک اثر ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی غیر معمولی طور پر ان کی تائید کرتا ہے۔ایک جگہ دعوت الی اللہ دے رہے تھے، ہمارے مربی۔یہ عام داعی الی اللہ کی بات نہیں ، ہمارے مربی کام کر رہے تھے۔تو دلائل سے ہارنے کے بعد ایک عجیب پیشکش کی مخالفوں نے کہ آخری بات تو یہی 659