تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 638
خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء دو تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم ” بے لیز جنوبی امریکہ کا ملک ہے۔آج کل کینیڈا سے ہمارے ایک واقف عارضی مسعود احمد خان صاحب وہاں کام کر رہے ہیں۔مسعود احمد خان صاحب نے غالباً دو مہینے کے لئے وقف کیا ہے۔اس سے پہلے بولیویا میں جو واقف عارضی گئے ، ان کا نام ڈاکٹر وسیم احمد ہے۔یہ سید نصیر احمد صاحب لندن کے بھائی ہیں۔انہوں نے چھ ماہ کے لئے اپنے خرچ پر وقت دیا ہے۔مسعود احمد صاحب کا بہت ہی خوش کن اور خوشخبریوں پر مشتمل خط ملا ہے۔اور وہ کہتے ہیں کہ جہاں جہاں بھی میں نے دین حق کا پیغام پہنچایا ہے، وہاں پر لوگ بڑی گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔اور انہیں امید ہے کہ وہ بہت جلد ہمیں ایک بڑی خوشخبری سنائیں گئے۔اس کے علاوہ کینیڈا کے ایک ہمارے مخلص احمدی دوست مکرم چوہدری محمد الیاس صاحب نے ایک بہت ہی پر خلوص پیش کش کی ہے کہ دسمبر 1988ء تک، یعنی جو بلی سال سے پہلے سنٹرل امریکہ (وسطی امریکہ) کے سات ممالک میں زمین اور مشن ہاؤس خرید کر جماعت کو بطور تحفہ پیش کریں گے۔یہ تحفہ سات اسیران ساہیوال کی طرف سے خصوصاً اور اسیران راہ مولا کی طرف سے عموماً ہو گا۔ان ممالک کے نام یہ ہیں:۔بے لیز ، گوئٹے مالا ، ایل سلواڈور، ہونڈوراس، نکاراگوا، کوسٹاریکا اور پانامہ اس درخواست کے ساتھ کینیڈا کے مربی مکرم نیم مہدی صاحب نے نوٹ لکھا ہے کہ اگر چہ جماعت احمدیہ نے یہ پیشکش کی ہے مگر اسے جماعت احمدیہ کینیڈا کی طرف سے مجموعی پیش کش تصور کیا جائے محض ایک شخص کی پیش کش نہ ہو۔نسیم مہدی صاحب کافی ذہین آدمی ہیں اور داؤ لگانے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔نسیم مہدی صاحب کی یہ پیش کش نامنظور ہے اور الیاس صاحب کی پیشکش منظور ہے۔اس کی وجہ یہ کہ کینیڈا کے سپرد تو چھ اور جماعتیں کی ہوئی تھیں، اس کی طرف توجہ نہیں کی۔اور جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک فرد واحد کے دل میں تحریک ڈالی اور ان کی ایسی توفیق بھی عطا فرمائی ہے کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ انشاء اللہ اپنے وعدے کو پورا بھی کر سکیں گے۔تو عموماً تو یہ ہوتا ہے کہ ایک فرد جماعتی کوششوں میں ہاتھ ڈال کر اپنا حصہ ڈال لیا کرتا ہے۔نسیم مہدی صاحب کی ذہانت کا کمال یہ ہے کہ ایک شخص کی کوشش میں ساری جماعت کا ہاتھ لگوا کر اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔یہ نہیں ہوگا۔جو جماعتیں ان کے سپرد ہیں، الاسکا، میکسیکو، ویسٹ انڈیز، کیوبا، فرینچ گئی وغیرہ ، اس کی طرف توجہ کریں۔سارا کینیڈا ان جماعتوں پر زور لگائے اور اکیلے الیاس صاحب ان جماعتوں پر زور لگائیں۔ہم دیکھیں گے کہ کون پہلے کامیاب ہوتا ہے؟“ (مطبوعہ ضمیمہ ماہنامہ انصار الله اگست 1987ء) 638