تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 609

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 10 جولائی 1987ء دوسرا معنی یہ ہوگا کہ اگر چہ اموال اور اولاد براہ راست اپنی ذات میں خدا کے نزدیک کوئی بھی اہمیت نہیں رکھتے۔یہ کافی نہیں ہیں تمہیں خدا کے قریب کرنے کے۔سوائے اس کے کہ اولادیں ایسی ہوں، جو تمہاری طرح ایمان لانے والی ہوں اور عمل صالح اختیار کرنے والی ہوں۔پھر ان اولادوں کی قیمت بن جاتی ہے خدا کے حضور۔اور وہ اولادیں تمہیں ضرور خدا کے قریب کر سکتی ہیں۔یہ دونوں معانی گویا دو منزلیں ہیں مضامین کی ، جو اس مضمون کو ایک نسل تک محدود نہیں رہنے دیتی ، اگلی نسل تک پھیلا دیتی ہے۔۔۔۔یہاں دو منزلہ جو اجر ہے، اس سے دراصل دو نسلوں کی مسلسل نیکی کی طرف اشارہ ہے۔ماں باپ بھی نیک ہوں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے والے ہوں اور اولادیں پیش کرنے والے ہوں۔اموال تو ان کی نیکی کی وجہ سے قبول ہو جائیں گے لیکن اولادیں اس طرح قبول نہیں ہوں گی ، جب تک اولادیں خود بھی الامن امن و عمل صالحا وہ خود ایمان لانے والی بہنیں اور عمل صالح کرنے والی بنیں۔تو اوپر تلے دو نسلیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف ہو جائیں گی۔پھر ایسی اولادوں کا اجر ان ماں باپ کو بھی ملے گا، جو وقف کی نیت رکھتے تھے۔ان کو خدا کے حضور پیش کرنا چاہتے تھے۔یہ اولادیں ضرور ان کے لئے بھی خدا کے قرب کا ذریعہ بن جائیں گی ، خدا کے پیار کے حصول کا ذریعہ بن جائیں گی۔لیکن خود اگر وہ بالا رادہ اس میں شامل نہ ہوں، اپنے نیک اعمال کے ذریعے اپنے دعاوی کو سچا نہ کر دکھا ئیں تو پھر ان کا اجر ان کے ماں باپ کو نہیں مل سکتا۔اسی طرح ماں باپ کو اگر وہ عمل صالح نہ کرنے والے ہوں یا ایمان نہ لانے والے ہوں، ان کو نہ اموال کا کوئی اجر مل سکتا ہے، نہ اولاد کا کوئی اجر مل سکتا ہے۔۔اسی کے پیش نظر میں نے یہ تحریک کی تھی کہ آئندہ صدی کے لئے جماعت جہاں اموال کثرت کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اتنی حیرت انگیز مالی قربانی کی روح جماعت میں پیدا ہو چکی ہے کہ بسا اوقات مجھے تحریک کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔اسی لئے میں نے اب زیادہ ذکر کرنا چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ مجھے یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں کچھ لوگ توفیق سے زیادہ نہ تکلیف اٹھا جائیں۔جو کام کرنے ہوتے ہیں، ان کے لئے خدا کے نزدیک جتنے روپے کی ضرورت ہے، وہ کثرت سے آجاتے ہیں۔ایک بھی کام گزشتہ چند سالوں کے اندر، مجھے جب سے خدا تعالیٰ نے خلافت پر فائز فرمایا ہے، ایک بھی کام ایسا نہیں ہے، جو مالی کمی کی وجہ سے رک گیا ہو۔ایک ذہن میں نئی سکیم آتی ہے، میں پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وہ اس کے لئے رقمیں بھجوائی شروع کر دیتا ہے۔بعض دفعہ اعلان سے پہلے ہی خود بخود آنی شروع ہو جاتیں ہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ پہلے میرے ذہن میں یہ تھا اور اس کے لئے 609