تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 608
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم وجہ یہ ہے کہ پہلا گناہ ہی تکبر کا گناہ تھا۔اور تکبر بظاہر مخلوق کے ساتھ تھا لیکن فی الحقیقت پیدا کرنے والے کے مقابل پر وہ تکبر تھا۔پیدا کرنے والے سے حق چھینا جارہا تھا کہ وہ جسے چاہے مطاع بنا دے، جسے چاہے مطیع بنادے۔اور ہر حق خدا ہی کا حق ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے اس موقف کو تسلیم نہیں فرمایا۔یہ وہ بنیادی نقطہ ہے، جسے نا سمجھنے کے نتیجے میں بے انتہاء انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور تمام دنیا میں ہر طرف بہت سے فساد اسی نقطے کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں آپ کو پیدا ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔جماعتی معاملات میں، میں نے بسا اوقات اس بات کا مشاہدہ کیا ہے۔بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم مطیع ہیں، ہم واقف زندگی ہیں، ہم ہر طرح کی قربانی کے لئے اطاعت کے لئے تیار ہیں۔لیکن جب کسی ایسے آدمی کا مطیع بنایا جائے ان کو، جس کو وہ اپنی نظر میں اپنے سے چھوٹا سمجھتے ہوں۔یہ دیکھتے ہوں کہ یہ ہم پر حکومت کرنے کے لائق نہیں ہے، ہم اس پر حکومت کرنے کے لائق ہیں، وہیں ان کی وقف کی روح تباہ ہو جاتی ہے، وہیں ان کی اطاعت کی روح ختم ہو جاتی ہے۔اور وہ یہ سوال اٹھانے لگ جاتے ہیں کہ اس کے سامنے ہم کیوں سر جھکا ئیں؟ یہ تو معمولی آدمی ہے، یہ تو چھوٹا آدمی ہے۔پھر اس کی ہر بات تکلیف دیتی ہے۔جس کو وہ اپنے سے بڑا سمجھتے ہیں، وہ ان سے بدسلو کی بھی کرے گا ، گالیاں بھی دے لے گا، ڈانٹ ڈپٹ کرے گا، وہ اپنے دل میں اتنی تکلیف محسوس نہیں کرتے۔جس کو اپنے سے چھوٹا سمجھتے ہیں۔خواہ اس کو ان کا مطاع بنا بھی دیا گیا ہو، اس کی ادنی سی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں، اس نے ہماری بے عزتی کی ، یہ تو اس لائق نہیں ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں۔اندرونی بیماری وہی ہے، جو پہلے دن کی شیطان کی بیماری تھی۔جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے یہ نیکی اور بدی کی جنگ کے آغاز کا اعلان کیا۔فرمایا: تکبر کے نتیجے میں ، اس حکمت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں کہ جو شخص مقرر کرتا ہے، اس کو دیکھا جائے گا۔نہ کہ یہ دیکھا جائے گا کہ کس کو مقرر کیا گیا ہے۔اگر تم اس کو دیکھو گے، جس نے مقرر کیا ہے تو تم ہمیشہ عجز کے سامنے، ہر اس چیز کے سامنے سر جھکا دو گے، جسے مقرر کیا گیا ہے۔اگر تم یہ دیکھو گے کہ کس کو مقرر کیا گیا ہے تو پھر تو ہزار دھو کے ہیں نفس کے۔ہزار مواقع پر تمہیں یہ خیال پیدا ہو گا کہ اس لحاظ سے میں بہتر ہوں، اس لحاظ سے میں بہتر ہوں اور تمہاری اطاعت بیسیوں یا سینکڑوں یا ہزاروں جگہ مجروح ہوتی چلی جائے گی۔اگر وہ لوگ جو اموال رکھتے ہیں اور اولادیں رکھتے ہیں، وہ ایمان لانے والے ہوں اور عمل صالح کرنے والے ہوں تو اس صورت میں اموال بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور اولادیں بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔608