تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 610
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم میں نے نقشے بھی بنوانے شروع کئے تھے کہ اگلی صدی سے پہلے ہم دار الیتامی بھی بنالیں۔کیونکہ قرآن کریم میں تیموں کے بہت حقوق بیان ہوئے ہیں اور تحریک میں نے کوئی نہیں کی۔لیکن ایک صاحب کا مجھے خط آ گیا کہ میری خواہش یہ ہے کہ کم از کم چالیس لاکھ روپیہ دار الیتامی کے لئے پیش کروں۔اس لئے میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، جس طرح چاہیں، جو چاہیں بنوائیں۔یہ آپ کی مرضی ہے، یہ جماعتی معاملہ ہے، جس طرح چاہے، پسند کرے، بنائے۔لیکن یہ میری خواہش ہے کہ دار الیتامی کے لئے استعمال ہو۔اور اس کے علاوہ بھی پھر کئی ایسی رقمیں آنی شروع ہو گئیں ، جس میں اسی قسم کا اظہار تھا۔ابھی یورپ سے ہی خاتون نے یہ خواہش ظاہر کی کہ مجھے دلی محبت ہے تیموں اور غریب بچوں کے اوپر خرچ کرنے کی۔اور یہ رقم ہے، جو میں آپ کے پاس پیش کرتی ہوں، جس طرح چاہیں ، خرچ کریں۔تو بسا اوقات تحریک کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔اس کثرت سے جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ مالی قربانی میں آگے بڑھ گئی ہے کہ از خود اچھل رہا ہے، جس طرح ماں کی چھاتیوں سے بچے کے لئے دودھ اچھلتا ہے، اس طرح اللہ کے دین کے کاموں کے لئے خدا تعالیٰ نے جماعت کی چھاتیوں میں دودھ اتار دیا ہے۔اچھل اچھل کے باہر نکل رہا ہے۔جہاں تک اولادوں کے وقف کا تعلق ہے، اس ضمن میں ابھی اس شان کی قربانی پیدا نہیں ہوئی تھی۔کیونکہ مختلف اوقات میں جب وقف کے لئے زور دیا جاتارہا تو جماعت اپنے جگر گوشے پیش کرتی رہی ہے۔لیکن درمیان میں بسا اوقات لمبے عرصے پڑ گئے، لمبے وقفے حائل ہو گئے کہ جب خلیفہ وقت نے وقف بسا کی طرف توجہ نہیں دلائی۔اس لئے جماعت بھی اس معاملے میں خاموش ہو گئی۔چنانچہ آئندہ کی ضرورتوں کے پیش نظر میں نے یہ تحریک کی کہ اپنے بچوں کو ، اپنی آئندہ نسلوں کو وقف کرو۔اگلی صدی میں ہمارے کام بہت کثرت سے پھیلنے والے ہیں۔ان کے اندازے ابھی سے کچھ ہونے شروع ہو گئے ہیں۔بالکل نئے نے ممالک کی فتح کے اللہ تعالی سامان پیدا فرمارہا ہے، نئی نئی قوموں میں جماعت کو داخل کر رہا ہے۔اور خود بخود ہو رہا ہے، ہماری کوششوں سے بعض دفعہ تعلق نظر آتا ہے ،بعض دفعہ کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔افریقہ کے ایک ملک میں جہاں خیال تھا کہ ہم وہاں بھی جماعت کا پودا لگائیں گے، انشاء اللہ۔ابھی تک وہ محروم تھا، اس پہلو سے۔اس کا ایک سیاح باہر نکلا سپین، وہاں مسجد دیکھی اور بیعت کر کے واپس چلا گیا۔اور اب اس کا خط ملا ہے کہ اب ہماری تربیت کا کچھ کرو۔سو سے زائد تو احمدی میں بنا چکا ہوں ابھی تک۔اور چندہ بھی دے رہے ہیں سارے۔اور مسجد کے لئے زمین بھی پیش کر دی ہے۔یہ بھی فیصلہ ہے۔610