تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 582
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 12 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم پس خوبیوں میں تو یہ طریق اختیار کریں۔اور برائیوں میں وہ دوسرا طریق کہ برائیاں آپ کی نہیں ہیں۔اگر آپ میں ہیں تو کہیں غیر سے آگئیں۔اگر آپ برائیوں کا شکار ہیں تو یہ پر دیسی چیزیں ہیں، جن کا آپ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن اپنے دلوں کو ، اپنی عادات کو، آپ نے ان کا وطن بنالیا۔لیکن اس کے برعکس اگر آپ ان کی برائیاں حاصل کرنے لگ جائیں اور خوبیوں سے غافل ہو جائیں، خوبیوں سے آنکھیں بند کر لیں تو کتنا بڑا ظلم ہوگا ؟ پہلے ہی بہت ہی گندی عادات کے بوجھ تلے دبے پڑے ہیں، ہم۔۔معاشرتی لحاظ سے، تمدنی لحاظ سے، روزمرہ کی عادات رہن سہن کے لحاظ سے اور میل جول کے لحاظ سے کئی پہلو ہیں، جن میں ہم بدقسمتی سے ایک لمبے پسماندہ دور میں سے گزرتے ہوئے بہت سی بدیوں کی گھریاں اٹھائے ہوئے ہیں۔اوپر سے ان کی ڈرگز (Drugs ) اختیار کرنے لگ جائیں ، اوپر سے ان کی شراب پینے لگ جائیں، اوپر سے ان کی دوسری عادات کو اختیار کر جائیں، کچھ بھی ہمارا باقی نہیں رہے گا۔کتنا ظالمانہ سودا ہوگا کہ نیک مقاصد کی خاطر ہجرت کر کے آئے ، دین کا نام لے کر گھروں سے نکلے اور اپنے عزیزوں کو پیچھے چھوڑا، پیچھے مائیں فوت ہو گئیں، پیچھے باپ جدائی میں ، مشکلات میں زندگی بسر کرتے کرتے رحلت کر گئے بعض بچے فوت ہو گئے لیکن واپس نہ جا سکے آپ لوگ اور یہاں آ کر کیا سودا کیا؟ سودا یہ کیا کہ اپنی برائیاں ان کو دینی شروع کر دیں اور ان کی برائیاں خود اختیار کرنے لگ گئے۔جب میں کہتا ہوں کہ برائیاں دینے لگ گئے تو یہ بھی واقعہ ہے کہ بدقسمتی سے بعض لوگ یہ بھی کرتے ہیں۔جب آج سے ایک لمبا عرصہ پہلے، تقریباً انتیس سال پہلے ، جب میں انگلستان آیا تھا تو شاذ و نادر کے طور پر کوئی پولیس مین ایسا بیان کیا جاتا تھا یعنی یہ بھی نہیں کہ حقیقت میں صحیح تھی بات ، بیان کیا جاتا تھا کہ رشوت لے لیتا ہے۔اور یہ ایک حیرت انگیز بات سمجھی جاتی تھی۔لیکن اب ایسی باتیں عام ہو گئی ہیں۔اب ان کے ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بھی یہ باتیں آرہی ہیں، اخبارات میں بھی اس کے چرچے ہوتے ہیں، پولیس کے اصلاحی کمیشن بھی بیٹھتے ہیں اور حیرت کی بات اور ظلم کی بات یہ ہے کہ اس کا آغاز Asians نے شروع کیا ہے۔اس زمانے میں کبھی کبھی میرے کان میں یہ بھنک پڑتی تھی اور بہت تکلیف پہنچتی تھی کہ بعض لوگ کہتے تھے کہ جی! ہم ان کو رشوت لینا سکھا رہے ہیں اور بڑے فخر سے بات کرتے تھے۔کہتے تھے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کو ایک شراب کی بوتل دے دو تو یہ بھی ہماری طرح بات ماننے لگ جاتے ہیں۔انسانی فطرت کی کمزوریاں تو ہر جگہ ہیں۔آپ نے ایک اچھی قوم کو گندا بنایا اور اس پر فخر محسوس کیا۔اسی طرح ممکن ہے کہ اور بھی بہت سی بدیاں مشرق نے ان لوگوں میں داخل کر دی ہوں۔تو ان کی 582