تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 581
اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 12 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اور نجابت اور روزمرہ کے ملنے جلنے کے اعلیٰ اخلاق، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائے تھے ، ان سب سے غافل ہو گئے۔اس زمانے میں جبکہ اکثر گھروں میں دروازے بھی نہیں ہوتے تھے بعض دفعہ پردے لٹکا کر کام لیا جاتا تھا۔بعض دفعہ پر دے بھی نہیں لٹکائے جاتے تھے۔حیرت کی بات ہے، چودہ سو سال پہلے ہر اپنے غلام کو یہ عادت ڈالی کہ کہیں بغیر اجازت کے کسی گھر میں کسی دروازے میں داخل نہیں ہونا۔سلام کہو اور اجازت حاصل کرو۔اور اگر اجازت نہیں ملتی تو کسی قسم کی دل پر میل لائے بغیر السلام علیکم کہہ کے اس گھر سے الگ ہو جاؤ۔( بخاری کتاب الاستیذان حدیث نمبر : 6245) آج یورپ میں یا دوسری ترقی یافتہ قوموں نے لمبے عرصے اور لمبے تجربے کے بعد یہ عادات سیکھیں ہیں۔آپ یہ عادات بھلا کے یہاں آئیں ہیں۔آپ کسی گھر جاتے ہیں تو دروازہ کھول کے کسی کمرے میں جانا چاہتے ہیں تو بغیر آواز کے دروازہ دھڑام سے کھولا اور اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ان کو کیا پتہ کہ آپ کا ماضی کیسا شاندار تھا۔انہوں نے آج کا چہرہ دیکھنا ہے۔اور پھر آج کے چہرے کو ، آج کے جسم کی طرف منسوب نہیں کرنا بلکہ چودہ سو سال پہلے کے چہروں کی طرف منسوب کرنا ہے۔یہ ظلم ہے، جو اسلام کے ساتھ کیا جارہا ہے۔اور اس ظلم میں آپ ان کے مد ہو جائیں گے، اگر آپ نے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا نہ کی۔پس اپنی خوبیوں کو دوبارہ حاصل کریں۔ان کی خوبیوں کو دیکھ کر شرم محسوس کریں کہ یہ تو ہماری تھیں۔اسی واسطے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورتحال پر نظر ڈالی اور یہ فرمایا کہ:۔الحكمة ضالة المؤمن ترندی کتاب العلم حدیث نمبر : 6211 ) که حکمت کی بات، اچھی بات تو مومن کی گمشدہ اونٹنی کی طرح کی ہے۔اگر کسی انسان کی اوٹنی گم جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا۔وہ جانتا ہے کہ میری تھی ، مجھ سے الگ ہوئی ہے۔پس جب آپ ان کی خوبیاں حاصل کریں گے تو آپ کی یہی کیفیت ہوگی کسی شرم کی ضرورت نہیں ہے، کسی احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر آپ کی خوبیاں نہ بھی ہوتیں ، تب بھی خوبیوں کو اختیار کرنے میں تو کوئی احساس کمتری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔لیکن بفرض محال بعض حساس لوگ کہتے ہیں، ہم کیوں نقلیں ماریں۔ان کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رستے کتنے آسان فرما دئیے۔فرمایا:۔الحكمة ضالة المؤمن ی تو تمہاری خوبیاں تھیں تم حاصل کرو، جس طرح مالک ہوتے ہو تم سے ان لوگوں نے حاصل کر لی ہیں۔581