تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 583

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 12 جون 1987ء بدیوں کے ڈھیر بھی بڑھنے شروع ہو گئے۔آپ کی بدیوں کے ڈھیر بھی بڑھنے شروع ہو گئے۔اور حضرت کو اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پھر کیسے پورا نہ ہوگا کہ کشتی کے پیندے میں سوراخ تو ہو گیا ہے، اس نے ڈوبنا ہی ڈوبنا ہے۔ایسی قومیں جن کی بدیاں بڑھنے لگ جاتی ہیں اور یہ عادت اب ان میں بھی آچکی ہے۔ایک دوسرے سے بدیاں سیکھنے لگ گئے ہیں۔امریکہ کا معاشرہ یورپ کو بدیاں سکھا رہا ہے، یورپ کا معاشرہ کچھ باتیں امریکہ میں داخل کرتا ہوگا۔لیکن بالعموم تو امریکہ سے ہی گندگی آتی ہے اور ساری دنیا میں پھیلتی ہے او بڑی خوشی سے انہیں قبول کر رہے ہیں۔پھر ایک دوسرے سے بدیاں سیکھتے ہیں۔جواٹلی میں بدی ایجاد ہو گئی ، وہ یورپ کے باقی ممالک نے بھی ضرور اختیار کرنی ہے۔جو انگلستان میں پیدا ہوئی، اسے بڑے شوق سے پھر باقی ملک بھی نقل کرتے اور اختیار کرنے لگ جاتے ہیں۔تو جو قوم پہلے ہی بیچاری اس حال کو پہنچ رہی ہو کہ ان میں بھی یہ رجحان پیدا ہو جائے کہ وہ بدیاں اختیار کرتے ہیں آسانی کے ساتھ اور شوق کے ساتھ۔اوپر سے آپ ان کو اپنی بدیاں پہنچانے لگ جائیں تو یہ سارا زمانہ یقینا بڑا گھاٹے کا زمانہ ہوگا۔قرآن کریم نے اسی طرح اس زمانے کا ذکر فرمایا ہے، قرآن کریم نے یہی تو کہا ہے:۔وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ (العصر : 0402 ) کہ میں زمانے کی قسم کھا کر کہتا ہوں، ان الانسان لفی خسر ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان بحیثیت مجموعی گھاٹے میں جارہا ہو گا۔یہ بات تو سمجھ میں آجاتی ہے۔مگر ذرا سوچیں کہ اس کے بعد قرآن کریم کیا فرماتا ہے۔الا الذین امنو او عملوا الصلحت۔مگر زمانے ہی کی قسم کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں گے، جو ایمان لانے والے ہوں گے اور نیک عمل کرنے والے ہوں گے۔وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر۔وہ نیک کاموں کی نصیحت کرتے چلے جائیں گے زمانے کو اور صبر کے ساتھ نیک کاموں کی نصیحت کرتے چلے جائیں گے، نیک اعمال کے ساتھ نیک کاموں کی نصیحت کرتے چلے جائیں گے۔اگر آپ وہ نہیں ہیں تو پہلی پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔اس دوسری پیشگوئی کو پورا کرنے والے اور کون لوگ ہوں گے؟ قرآن کریم کے اس بیان کی صداقت پر آپ گواہ ٹھہرائے گئے ہیں۔آپ ہی ہیں، جن کا ذکر ہے کہ الا الذین امنوا۔ہاں ! چند ایک ایسے لوگ ہیں ، جو ایمان لے آئے ہیں اور اپنی ایمان کی صداقت میں، اس کے ثبوت میں انہوں نے نیک اعمال شروع کر دیئے۔اور پھر نیک اعمال کو اپنے 583