تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 48

خلاصہ خطاب فرموده 10 مئی 1985ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم ہیں لیکن جب یہ رسمیں بڑھ جاتی ہیں تو پھر شریعت کی جگہ نہیں رہتی۔اب مغربی تہذیب میں شریعت کی گنجائش کہاں باقی رہ گئی ہے؟ رسموں اور دنیا پرستی نے قبضہ کر لیا ہے۔لوگ کہتے ہیں، اس میں کیا حرج ہے؟ چاربیتیوں یا دس بتیوں کو پھونکیں مار کر بجھا دیا اور سب نے مل کر کیک کھالیا، بڑا مزا آتا ہے، کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن پھر کیک ہی کھاتے ہیں لوگ ، خدمت دین کے لئے کچھ باقی نہیں رہتا۔صدقات کی محبت اٹھ جاتی ہے، غریب پروری اور غرباء کو کھانا کھلانے کا شوق غائب ہو جاتا ہے۔ہزار قسم کی بدیاں ہزار قسم کی نیکیوں کو دھکیل دیتی ہیں۔" شریعت سے عدم توجہ کے نتیجے میں رسوم جگہ لیتی ہیں۔ورنہ جس شخص نے شریعت کو پوری طرح ادا کیا اور اس کی روح کو سمجھا ہے، اس بے چارے کو تو ہوش ہی نہیں رہتی ، شریعت کے حق ادا کرنے سے۔وہ و ہم و گمان بھی نہیں کر سکتا کہ ذمہ داریوں کو پورا کر کے پھر زائد وقت دوسری چیزوں کو دے۔جب رسمیں جماعتوں میں داخل ہورہی ہوں تو سب سے بڑے خطرے کی گھنٹی یہ بجتی ہے کہ جماعت کی نیکی میں کمی آگئی ہے، اس کے رجحانات ٹیڑھے ہو رہے ہیں اور پھر وہ غلط راستوں پر قدم مارتی ہے۔اس لئے رسم ورواج کی بیخ کنی بنیادی اصولوں میں سے ہے شریعت کے، اس کو ثانوی حیثیت نہ دیں۔رسموں کی طرف متوجہ ہونا ہی بتا رہا ہے کہ کوئی بیماری آگئی ہے۔اس لئے اس کی پوری قوت کے ساتھ جہاد کے طور پر بھی بیخ کنی ضروری ہے۔اس کے بعد اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ جو سنت حضرت مسیح موعود نے بطور ایک حکم عدل کے قائم فرمائی ہے۔اس لئے حکم عدل کا جو فیصلہ ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔اس لئے یہ جو سنت ہے ”آمین“ کے اوپر کچھ دعوت کا اہتمام کرنا اور بچوں کی خوشی منانا، اسے ہرگز رسم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ایک شریعت کی مہر لگی ہوئی ہے اس پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی مہرلگی ہوئی ہے۔اور خدا نے جس شخص کو مقررفرمایادہ معصوم عن الخطاء ہوتا ہے، وہ غلطی کر ہی نہیں سکتا۔لیکن غلطیاں آگے ہوتی ہیں پھر۔اور میں انہی کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔غلطیاں تو یہ ہوتی ہیں کہ جو سنت قائم کی گئی، اس سے آگے بڑھ کر مزید باتیں اس میں داخل کر دی گئیں۔مثلا دیکھا ہوا ہے کہ جو لوگ برتھ ڈے پر Presents لے کے کا آتے ہیں، تو کہا کہ ٹھیک ہے، اب اجازت تو ہوگئی ، ”آمین“ منانے کی ، اب تھے لے کر چلو۔چنانچہ آج بھی اور کل بھی میری بیوی نے مجھ پر بڑا زور دیا کہ بڑا تعلق ہے ان لوگوں سے، آپ ضرور تحفہ دینے دیں، ان کی خوشی ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ”آمین“ کی اجازت ہے، تو کرنے دیں۔میں نے کہا: سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک آنہ بھی نہیں دینا تحفہ۔کیونکہ تم اگر آج ایک آنہ تحفہ دو گی تو کل رسمیں بن جائیں گی اور پھر لاکھوں کے تحائف چلا کریں گے اور نمود و نمائش بن جائے گی۔48