تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 47

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک خلاصہ خطاب فرموده 10 مئی 1985ء رسم و رواج کی بیخ کنی شریعت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے وو خطاب فرمودہ 10 مئی 1985ء بر موقع تقریب آمین حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔جماعت احمد یہ رسوم کے خلاف ہے۔اور وہ سنتیں، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمائیں، وہ رسوم نہیں کہلا تیں بلکہ سنت کہلاتی ہیں۔جتنی بھی رسوم بعد میں اسلام میں داخل ہوئیں، ان کے خلاف جماعت احمد یہ جہاد کرتی ہے۔خواہ وہ چھوٹی کبھی جائیں یا بڑی۔رسوم سے شریعت پر بہت سے ایسے بوجھ پڑ جاتے ہیں، جو خدا کی طرف سے نہیں ڈالے گئے۔اور لوگوں کی طاقتیں ان راہوں پر چلنے کی بجائے جو شریعت نے مقرر کی ہیں، لوگوں کی بنائی ہوئی رسموں کی راہ پر چلنے لگتی ہیں۔چنانچہ یہی حال آج امت محمدیہ کا، بڑے درد کے ساتھ کہنا پڑتا ہے، ہو چکا ہے۔اصل حقائق شریعت کے پس پشت جا پڑے اور قل اور چالیسویں اور گیارھویں اور اس قسم کی دیگر رسموں نے شریعت کی جگہ لے لی۔رسموں کے خلاف جہاد بہت اہمیت رکھتا ہے۔فرمایا:۔ہمیشہ امتیں رسموں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔چنانچہ قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات گنواتے ہوئے ، ایک یہ بات بھی گنوائی کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان ہے کہ وہ بوجھ ، جو لوگوں نے اپنے اوپر ڈال لئے تھے، جو گلے کا طوق بن چکے تھے، ایسے بوجھ بھی تھے کہ گردن کا طوق بن گئے ، ان سب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتار کے ایک طرف پھینک دیا اور آزاد کر دیا۔یہ ہے بہت عظیم الشان احسان ایک نبی کا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل غلام حضرت مسیح موعود نے بھی بعینہ وہی احسان ہم پر فرمایا، جبکہ تیرہ سو سال کی وہ رسمیں، جو بعد میں پیدا ہوئیں ، ان سے یک طرح ہمیں آزاد کر دیا۔لیکن بدقسمتی ہے قوموں کی کہ ہمیشہ رسموں کی طرف دوڑتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی رسموں کو اختیار کر کے بظاہر اپنی زندگی میں زینت پیدا کریں۔Birthday ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ بڑی زینت پیدا ہو جائے گی، تجھے ملیں گے، تھنے دیے جائیں گے اور ہر سال پھونکیں مار کے بتیاں بجھائیں گے۔یہ دکھاوے کی چیزیں شروع میں بڑی نرم لگتی 47