تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 482
پیغام بر موقع جلسہ سالانہ قادیان 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پنجاب کی نسبت سے سکھوں میں اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت سے ہندوؤں میں تبلیغ غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے۔نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی قوم کی اجارہ داری ہے، نہ اسلام پر۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب کے لئے تھے اور اسلام بھی سب کے لئے ہے۔اس لئے ہندوؤں کا بھی اس پر اسی طرح حق ہے، جس طرح ہندوستان کے سب باشندوں کا حق ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ اسلام کا پر امن پیغام دیتے ہوئے پر امن طریق پر پیغام دیں۔صبر اور استقامت کے ساتھ اثر کرنے والی نصیحت اور دعاؤں کے ساتھ اور بچی انسانی ہمدردی کے جذبہ سے سرشار ہو کر بحث برائے بحث یا دوسرے فریق کو نیچا دکھانے کے جذبہ سے تبلیغ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔جس کو پیغام دیں، اس کو یہ احساس ہونا چاہیے بلکہ یقین ہونا چاہیے کہ آپ اس سے سچی ہمدردی کے ساتھ اسے رشد و ہدایت کی طرف بلا رہے ہیں۔مذہب دنیا میں فسادات کی بناء پر بہت بدنام ہو چکا ہے اور ہندوستان بھی اس میں سے کثیر حصہ پاچکا ہے۔آپ کا فرض ہے کہ اپنے بہترین اور دلکش انداز سے ان داغوں کو دھوئیں اور الزامات کو دور کر ہیں۔اور اپنے اہل وطن پر یہ ثابت کر دیں کہ اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی مذہب بھی سچا نہیں ہوسکتا، اگر وہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف نفرت، دشمنی اور بغض و عناد کی تعلیم دے۔مذہب وہی سچا ہے، جو انسان کو انسان سے پیار کرنا سکھائے اور ایسا مہذب بنا دے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کا اہل بن جائے۔وہ شخص جو انسان کے حقوق ادا نہیں کر سکتا اور انسان سے محبت اور پیار کارویہ اختیار نہیں کرسکتا ، وہ خدا تعالیٰ کا پیارا بھی نہیں بن سکتا۔اللہ تعالیٰ آپ کو پیار سکھانے اور پیار حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔آخر میں صرف اس امر پر توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ غیروں کو تو آپ محبت کی تعلیم دے رہے ہوں اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑیں اور محبت والفت کی بجائے باہم اختلافات اور عداوت کا ماحول پایا جاتا ہو۔اگر خدانخواستہ کسی کا ایسا ماحول ہو تو اہل ہندوستان اسے کہہ سکتے ہیں کہ اے معالج پہلے اپنا علاج تو کر۔پس یہ امر مد نظر رہنا لا بدی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں تو دوہی مسئلے لے کر آیا ہوں، اول: خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے: آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔"3 كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ 482 یا درکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔(آل عمران: 104) لملفوظات جلد 01 صفحه (336)