تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 432
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم اس پر مجھے خیال آیا کہ ایل سلواڈور میں جو بڑی تباہی آئی ہے اور سینکڑوں بچے یتیم رہ گئے ہیں یا جو ماں باپ سے الگ ہو چکے ہیں، کچھ پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں اور کہاں چلے گئے ہیں ؟ حکومتیں اب ایسے بچوں کو اپنا رہی ہیں۔اور جماعتی سطح پر تو یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ ہم براہ راست یونائیٹڈ نیشنز سے کہیں کہ ہمیں بھی بچے دیں یا ایل سلواڈور کی حکومت سے کہیں۔مگر جس جس حکومت میں احمدی رہتا ہے، وہاں وہ اپنی حکومت سے یہ درخواست کر سکتا ہے کہ جماعت احمد یہ اتنے بچوں کو گھر مہیا کرنے کے لئے تیار ہے، والدین مہیا کرنے کے لئے تیار ہے، تربیت کی ساری ذمہ داریاں قبول کرنے کے لئے تیار ہے اور جس حد تک بھی توفیق ہے، بہترین تعلیم دینے کی ذمہ دار ہے۔یہ فیصلے ہر ملک میں اپنے طور پر ہو سکتے ہیں۔پہلے وہ اپنا جائزہ لیں اور پھر اپنے اپنے ذرائع سے وہ حکومت سے رابطہ پیدا کر کے، پہلے اپنا جائزہ لیں اور پھر یہ پیشکش کریں کہ ہم اتنے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔یہ جو احسان ہوگا بنی نوع انسان کے بچوں پر، یہ آپ کے بچوں کے حق میں ایک صدقہ جاریہ بن جائے گا۔آپ کی کوششوں میں اتنی برکت پڑے گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ پہلے اگر ایک کے نتیجہ میں دس نعمتیں ملتی تھیں، اب ایک کے نتیجہ میں سونعمتیں ملنی شروع ہو جائیں گی۔۔۔چنانچہ اس سلسلہ میں، میں نے ایک یتیم خانے کے متعلق ہدایت دی تھی، جو خدا کے فضل سے مکمل بھی ہو چکا ہے۔ایک اور وسیع یتیم خانہ ربوہ میں بنانے کا پروگرام ہے، انشاء اللہ۔اور اگر ربوہ کا ماحول سازگار نہ ہو تو کسی اور ملک میں بنالیں گے۔یتامی کی جو ضرورت تو عالمگیر ہے۔ضروری نہیں کہ مرکز احمدیت میں ہی ہو۔افریقہ کے ممالک میں بھی ہو سکتے ہیں، دوسری جگہ میں بھی ہو سکتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ایک مخلص احمدی دوست نے تھیں، چالیس لاکھ روپے کی پیشکش کی ہے کہ میری طرف سے ایک نہایت اعلیٰ یتیم خانہ اپنی مرضی کا بنوالیں۔وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ بنے گا لیکن جن گھروں کو توفیق ہو، وہ گھر اپنے آپ کو پیش کریں کہ ہم ایک یتیم ایل سلواڈور کا پالنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر تربیتی مشکلات پیش نظر ہوں ، گھر کے ماحول پر ایسے بچوں کے بداثر پڑنے کا خطرہ ہو، جو بالکل غیر اسلامی ماحول سے آرہے ہیں، جن کی تربیت اور طرح سے ہوئی ہے تو اس سلسلہ میں جماعت یہ بھی کر سکتی ہے کہ اجتماعی طور پر یتیم خانے کا انتظام کرے۔ہم اسلام آباد کو بھی اس ضمن میں استعمال کر سکتے ہیں۔صرف انگلستان کی جماعت کے لئے ہی نہیں بلکہ بعض دوسری جماعتوں کی طرف سے بھی۔مثلاً یہ ہو سکتا ہے کہ انگلستان کے بعض خاندان یہ ذمہ داری قبول کر سکیں کہ ہم یتیم کو پالیں گے بھی اور بہترین تربیت بھی کریں گے اور تعلیم 432