تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 433
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1986ء بھی اعلیٰ دیں گے۔اور بعض سمجھیں کہ ہم یہ تو نہیں کر سکتے مگر ایک گھر ایک یتیم کا خرچ دینے کے لئے تیار ہیں یا ایک جگہ کے دس گھر مل کر یتیم کا خرچ دینے کے لئے تیار ہیں۔وہ خرچ کیا ہوگا؟ یہ جماعت فیصلہ کر کے بتائے گی پھر۔ایسی صورت میں ہم اسلام آباد میں پچاس یا سویتامی کے لئے انتظام کر سکتے ہیں۔انگلستان کی جماعت خواہ انگلستان سے مانگے یا باہر کی جماعتیں اپنے اپنے طور پر مانگیں۔مگر یہ وضاحت کر کے کہ ان بچوں کو ہم انگلستان میں بھجوائیں گے۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر اپنے اپنے ملک میں جماعتی انتظام کے تابع چھوٹے چھوٹے یتیم خانے بنائے جاسکتے ہیں۔ایسی احمدی خواتین ہیں، جواپنی زندگی اس معاملہ میں خوشی کے ساتھ پیش کریں گی۔ایسے بوڑھے بزرگ ہیں، جو بڑی خوشی کے ساتھ اس نیک کام میں اپنے آپ کو پیش کریں گے کہ وہ ماں باپ کے طور پر ان معنوں میں ماں باپ کہ وہ ان کو ماں کا پیار بھی دینے والے ہوں اور باپ کی نگرانی بھی کرنے والے ہوں، جماعت ان کو ایسے بزرگ مہیا کر دے گی۔ایک چھوٹا سا گھر کرایہ پر لے لیا جائے گا یا اگر توفیق ہے تو خرید لیا جائے گا اور جتنے بیتامی کو وہاں پالا جا سکتا ہو، وہاں ان کے لئے حکومت سے پیش کش کر کے حکومت سے گفت و شنید کر کے فیصلہ کریں اور مطلع کریں کہ ہم خدا کے فضل سے اتنے یتامی کی پرورش کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔خدا نے یہ جو نیکی کی ایک اور راہ دکھا دی ہے، یہ جواب ہے ربوہ کے اس گندے جلسہ کی گندی گالیوں کا۔اس لئے ان لوگوں نے تو ہارنا ہی ہارنا ہے۔ان کے پہلے سوائے گند کے ہے کچھ نہیں۔اور جتنا زیادہ گند بولتے ہیں، ہمیں اور زیادہ حسین بناتے چلے جارہے ہیں۔اور زیادہ ہمیں نیکی کی راہیں دکھاتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے لازماً قرآن کریم کے فیصلے کے مطابق احمدیت جیتے گی، اس کے مقدر میں شکست ہو ہی نہیں سکتی۔کیونکہ آپ کی نظر حسن پر ہے اور دائمی حسن پر پڑی ہوئی ہے۔ہمیشہ اپنے نظریات کو بھی حسین تر اور اعمال کو بھی حسین تر بنانے کی کوشش میں آپ مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں نصرت عطا فرما رہا ہے اور آئندہ بھی فرماتا چلا جائے۔آمین۔(مطبوعہ خطبات طاہر جلد 15 صفحہ 675 تا 692) 433