تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 431

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ؟ اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1986ء چنانچہ یہی انگلستان میں ایک موقع پر ہم ونڈسر کاسل دیکھتے ہوئے ہم باہر سڑک پر آئے تو ایک چھوٹی سی بچی ، جو ایسے گھر کی جہاں نماز ہوتی ہے، اس نے اللہ اکبر کہ کر زمین پر سجدہ کر دیا۔اس کو یہ بتانا پڑا کہ یہ جگہ نہیں ہے۔جہاں گھروں میں عبادت سے پیار ہو، اللہ تعالیٰ کا تعلق ہو، تلاوتیں ہورہی ہوں، وہاں یہ تو نہیں کہنا پڑتا کہ یہاں کرو بلکہ بچوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہاں نہ کرو۔اور میرا یہ عام تجربہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے بچے بھی جو اللہ سنتے رہتے ہیں، ان کو اللہ ہی یاد رہتا ہے۔وقت بے وقت وہ اللہ کی آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔اور سب سے زیادہ لفظ جو ان کے ذہن پر نقش ہو جاتا ہے، وہ اللہ ہے۔یہ باتیں اگر بچپن میں ذہنوں میں نقش نہ کی گئیں تو بڑے ہو کر آپ سے نہیں سکھائی جائیں گی۔بڑے ہو کر غیر معاشرہ اتنا غالب آچکا ہوگا، ایسے رنگ چڑھا چکا ہوگا کہ اس کے بعد پھر اللہ کا رنگ چڑھنا مشکل ہو جائے گا۔پہلے رنگوں کو مٹانا پڑے گا اور ان رنگوں میں ایسی شدت پائی جاتی ہے، مادہ پرستی کی ایسی سختی پائی جاتی ہے کہ پھر ان کو مٹانا بہت مشکل کام ہو جائے گا۔اس لئے ساری دنیا کی جماعتیں خصوصاً مغربی تہذیب سے متاثر جماعتیں، یہ پروگرام بنائیں۔اپنی ساری دماغی صلاحیتوں کو کام میں لائیں ، اپی قلبی صلاحیتوں کو کام میں لائیں ،منصوبہ بندی کریں اور مقصد صرف یہ ہو کہ گھروں میں پاکیزہ ماحول پیدا ہو جائے۔اور بچے اس ماحول میں پرورش پا کر اٹھیں۔اور ان کے لئے قرآن کریم کی تلاوت سکھانے کے انتظام بھی موجود ہوں اور قرآن کریم کا ترجمے سکھانے کے بھی انتظام موجود ہوں“۔اگر آپ نے یہ فتح حاصل کر لی تو آپ ایک ایسی نسل پیچھے چھوڑ کر جائیں گے جو دوسروں کے گھروں میں بھی فتح حاصل کر سکے گی ، جو غیر معاشرے پر بھی قبضہ کر سکے گی۔اگر آپ نے گھروں میں یہ میدان چھوڑ دیا اور یہاں اس میدان سے بھاگ گئے تو وہم ہے، مجنون کی خواب ہے کہ آپ دنیا پر غالب آجائیں گئے۔"" وو چونکہ بچوں سے تعلق رکھنے والا مضمون تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بھی مجھے سمجھائی اور وہ یہ کہ جس نیکی کا فیصلہ کرتے ہیں، اس سے ملتا جلتا صدقہ بھی دیا کرتے ہیں، خیرات بھی کیا کرتے ہیں تا کہ اس کام میں برکت پڑے۔اگر آپ اپنے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بچوں پر رحم کا کوئی طریق سوچیں، بچوں سے حسن سلوک کی کوئی راہ سوچیں تا کہ وہ آپ کی طرف سے صدقہ بن جائے اور آپ کے بچوں کی حفاظت کرنے والا ہو جائے۔431