تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 381

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد من فرمایا کہ ارشادات فرمودہ 29, 28 جولائی 1986ء ”دورہ کرنے والے احمدی تاجران اپنے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ خدمت خلق کے جذبہ کے ساتھ نائیجیریا کے مقامی احمدی تاجروں کے فائدہ کے لئے یہ دورہ کریں۔تیسرا اجلاس: 29 جولائی تلاوت قرآن کریم کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔اس کے بعد وقف عارضی کی بابرکت تحریک کو فروغ دینے کے متعلق ایک تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔جولوگ وقف عارضی پر جائیں ، وہ مقامی لوگوں کے ایڈریس ( پستہ جات ) حاصل کر کے ان سے مستقل رابطہ رکھیں۔اور اس طرح مستقل وقف پر عمل پیرا ہوں“۔ایک تجویز پیش ہوئی کہ اگر یوروپین احمدی اور عرب احمدی وقف عارضی کر کے افریقی ممالک میں جائیں تو اس کا بہت اچھا اثر ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہاں اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ نہ تو کوئی یوروپین مسلمان ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی عرب احمدی ہوسکتا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی یوروپین احمدی خودر تم خرچ نہ کر سکتے ہوں تو ان کا خرچ جماعت ادا کر سکتی ہے۔لہذا ایسے لوگوں کو منتخب کر کے وقف عارضی کے لئے تیار کیا جائے“۔وقف عارضی کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ وقف عارضی کا مقصد مستقل واقفین کی کمی کو پورا کرنا ہے۔اسی لئے حضرت خلیفة المسیح الثانی نے وقف جدید شروع فرمائی تھی۔حضرت خلیفة المسیح الثالث نے محسوس فرمایا کہ اگر ایک آدمی دوسری جگہ چند دن کے لئے جائے تو اس کا بہت اچھا اثر ہوگا کیونکہ وہ تعلیم القرآن، تبلیغ اور مسلسل دعاؤں میں مصروف رہنے کی توفیق پائے گا۔لیکن اس وقت یہ تحریک زیادہ تر پاکستان تک محدود تھی۔خلافت رابعہ نے وقف عارضی کی تحریک کو اب بین الا قوامی شکل دے دی ہے۔دوسرے خصوصی زور تبلیغ پر دیا گیا ہے۔وقف عارضی کو کامیاب بنانے کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگر واقف عارضی دوسروں میں دلچسپی لے گا تو وہ بھی اس میں دلچسپی لیں گے۔اور ایسے ہی 56 واقفین عارضی کی ہمیں ضرورت ہے۔مزید فرمایا کہ وقف عارضی کی سکیم کونئی نسل اور نئے احمدیوں اور یوروپین اور افریقین احمد یوا پر متعارف کروایا جائے اور انہیں اس میں شامل ہونے کی تحریک کی جائے۔خاص طور 381