تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 353
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه عید الفطر فرموده 09 جون 1986ء وعدے موصول ہوتے چلے جارہے ہیں۔جوں جوں جماعت اس تحریک سے واقف ہوتی چلی جارہی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ مالی قربانیوں کی پیش کش کر رہی ہے۔لیکن اس کے خرچ کی راہ میں کچھ مشکلات بھی در پیش ہیں۔عجیب جماعت ہے یہ کہ جس کی قربانی کرنے والوں کو جب جماعت کی طرف سے مدد پیش کی جاتی ہے تو وہ پسند نہیں کرتے۔سوائے اس کے کہ ایک سخت مجبوری کی صورت ہو اور اس صورت میں بھی بڑے احترام اور عزت کے ساتھ پردہ پوشی کے رنگ میں ان کے لئے کچھ پیش کیا جاتا ہے۔تو اس نیست سے قبول کرتے ہیں کہ جب بھی ہمیں خدا توفیق دے گا ، اس سے بڑھ کر جماعت کو واپس کریں گے۔اور ہزار ہا ایسا احمدی پھیلا ہوا ہے، جس نے خدا کی راہ میں دکھ اٹھائے اور کلمہ طیبہ کی خاطر ، اس کی حفاظت کی خاطر، اس کی عزت اور ناموس کے لئے اور انسان کے اس بنیادی حق کا سر بلند رکھنے کی خاطر کہ مذہب کے معاملے میں اور خدا کی عبادت کے معاملے میں کسی انسان کو حق نہیں کہ کسی دوسرے کے معاملات میں دخل دے، انہوں نے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں۔ان کو سیدنا بلال فنڈ کا فیض کیسے پہنچایا جائے؟ یہ سوال تھا۔وہ تو لینے پر آمادہ نہیں۔بعض ایسے ہیں راہ مولیٰ کے اسیر، جن کے گھروں میں محض ہمدردی کا اور پیار اور محبت کا اظہار کرنے والوں کا بعض اوقات اتنا ہجوم ہوتا رہا کہ ان کو غیر معمولی مہمان نوازی کے اخراجات اٹھانے پڑے۔ایسی مثالیں ہیں، جب ان کو جماعت کی طرف سے پیش کیا گیا تو انہوں نے قبول کر لیا احترام میں، اس لئے کہ ان کو یہ کہا گیا تھا کہ میں نے بھجوایا ہے۔بڑی محبت اور پیار سے قبول کیا۔ایک ہاتھ سے لیا اور دوسرے ہاتھ سے وہ سیدنا بلال فنڈ میں اپنے خاندان کی طرف سے حدیث پیش کر دیا۔تو کس طرح جماعت کی محبت کا تحفہ ان کو پہنچاؤں ، یہ مسئلہ تھا، جو مجھے درپیش تھا۔دو قرآن کریم کی اشاعت کے اس پروگرام کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرا دل کھول دیا اور ایک بہت ہی پیارا خیال میرے دل میں پیدا ہوا کہ سیدنا بلال فنڈ سے ایک سو زبانوں میں ساری دنیا کو قرآن کریم کا یہ تحفہ پیش کیا جائے۔اور یہ سارے اسیر اور یہ سارے راہ مولا میں تکلیف اٹھانے والے لازماً اس میں شامل ہو جائیں گے۔ان کی طرف سے دنیا کو یہ تحفہ ہوگا۔اور اس سے بہتر جواب ان کے اوپر مظالم کا اور الہی جماعتیں دے ہی نہیں سکتیں۔عجیب حال ہے، ذرا سوچیں تو سہی کہ آج پاکستان میں جو بد نصیب سر براہ ہیں وہ اور وہ لوگ، جو ان کے ساتھ ہیں، ان کی خدمت اسلام کا تصور تو یہ ہے کہ مسجدوں کو مسمار کر دیا جائے اور خدا کی عبادت کرنے والوں کو دکھ دیئے جائیں اور قتل کی دھمکیاں دی جائیں اور کلمہ طیبہ سے محبت کے اظہار کرنے 353