تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 354

اقتباس از خطبه عید الفطر فرمودہ 09 جون 1986ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد هفتم والوں کے متعلق یہ فتوے جاری کئے جائیں کہ اگر تم کلمہ طیبہ سے اپنے پیار اور محبت کے اظہار سے باز نہ آئے تو تمہارے ناک اور کان کاٹ دیئے جائیں گے۔اور اسے اسلام کی عظیم الشان خدمت قرار دیا جا رہا ہو۔اور دوسری طرف وہ لوگ جو کلمہ طیبہ کے پیار اور محبت میں یہ تکلیفیں اٹھا رہے ہیں، وہ دنیا کو اس کے جواب میں یہ تحفہ پیش کریں کہ ہمیں تم قرآن کی محبت سے باز نہیں رکھ سکتے۔ایک ملک میں پابندی لگاؤ گے تو سو ملکوں میں ہم قرآن کریم کی بڑی محبت اور پیار اور احترام کے ساتھ اشاعت کریں گے۔اور ان کا فیض عالمی فیض بن جائے ، ان کا فیض ایسا ہو، جو زمانہ کے ساتھ ختم نہ ہو بلکہ بڑھتا چلا جائے۔اس سے بڑا تحفہ جماعت ان کو پیش نہیں کر سکتی تھی۔اور اس سے بڑا تحفہ یہ خدا کے حضور پیش نہیں کر سکتے کہ اس دور میں جو تو نے ہمیں سعادتیں بخشی ہیں، اس کے نتیجہ میں یہ ہم شکرانے کا حق اس طرح ادا کر رہے ہیں۔کوئی مثال نہیں ہوگی اس زمانہ میں اس عظیم الشان رد عمل کی دنیا کی قوموں میں جب سے تاریخ مذہب بنی ہے اور بنتی چلی جارہی ہے۔یہ ایک واحد مثال ہوگی کہ خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے والوں کی طرف سے اس رنگ کا تحفہ اپنے رب کے حضور شکرانے کے طور پر پیش کیا جارہا ہو۔ویسے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس سے بڑھ کر قربانیوں کے حق ادا کرنے کی نہ صرف کوششیں کی گئی بلکہ کامیابی سے ان کوششوں کو انجام تک پہنچایا گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اول میں جن لوگوں نے قربانیوں کی توفیق پائی ، یہ انہی کا فیض ہے کہ آج قرآن کریم ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔مگر براہ راست ظاہری رو عمل کے طور پر اس رنگ میں فوری طور پر ایک تحفہ دنیا کے لئے پیش کرنا ، خدا کی طرف سے اور خدا کی الہی جماعت کی طرف سے ، یہ جو واقعہ ہے، یہ تاریخ میں ایک عجیب واقعہ ہوگا۔اس لئے میں نے یہی سوچا کہ سیدنا بلال فنڈ کا سب سے اچھا مصرف یہی ہے کہ اس رنگ میں راہ مولا میں دکھ اٹھانے والوں کی طرف سے خدا تعالیٰ کا شکرانہ ادا کیا جائے کہ اس نے ان کو یہ عظیم سعادت بخشی اور اس شکرانے کے اظہار کے طور پر ساری دنیا میں اشاعت اسلام کے کام کو آگے بڑھا دیا جائے۔پس مبارک ہو آپ کو بھی، جنہوں نے اس فنڈ میں حصہ لیا اور مبارک ہو ان کو بھی ، جن کی طرف سے جماعت کو یہ عظیم الشان خدمت اسلام کی توفیق نصیب ہورہی ہے۔اگر کسی کے ذہن میں یہ وہم اٹھے کہ ہم نے تو ان کی تکلیفیں دور کرنے کے لئے پیش کیا تھا، آپ نے کسی اور رستے پر خرچ کر دیا تو ان کو میں بنا تا ہوں کہ جب میں نے یہ تحریک کی تھی تو ہر گز ضرورت کے نتیجہ میں تحریک نہیں کی تھی۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس معاملہ میں خود کفیل ہے اور ہمیشہ خود کفیل رہے گی کہ ان کے نام پر کسی چندہ کی تحریک کئے 354