تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 336
خطبہ جمعہ فرمودہ 04 اپریل 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے مواقع پیش نہیں آنے چاہئیں کہ آڈٹ کے نظام پر اتنا زور دینا پڑے۔کیونکہ آڈٹ کا نظام حقیقت میں اموال کی صحیح حفاظت یا پوری حفاظت نہیں کر سکتا۔کوئی نگران جو بیرونی ہو ، وہ بچی اور حقیقی حفاظت اموال کی کر ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا ایک اندرونی نگران مقرر فرما دیا ہے۔اور یہ وہ نگران ہے، جس کا براہ راست عالم الغیب والشہادۃ سے تعلق ہے۔کیونکہ تقویٰ خدا کی ذات سے پھوتا ہے۔اس کا مستقل رشتہ، ہمیشہ کا ایک رابطہ ہے، اپنے رب کے ساتھ۔اس لئے اس کو بھی خدا تعالیٰ نے عالم الغیب والشہادۃ کی صفات عطا فرما دی ہیں۔تقویٰ کی آنکھ وہ بھی دیکھ رہی ہوتی ہے، جو بیرونی آڈیٹر کو نظر آتا ہے اور وہ بھی دیکھ رہی ہوتی ہے، جو بیرونی آڈیٹر کو نظر ہی نہیں آسکتا۔ان باریکیوں تک بھی چلی جاتی ہے، جو نیتوں کے پردوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔اس لئے تقویٰ کی بصیرت کو تیز کریں اور اسی کو اپنا نگران بنائیں۔اگر آپ اس طرح کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کے اموال میں بھی برکت پڑے گی اور جماعت کے اموال میں بھی ہر لحاظ سے برکت پڑے گی۔اگر ایک آنہ آپ خرچ کریں گے تو تقویٰ کے ساتھ خرچ کیا جانے والا آنہ ، ایک آنے کی قیمت نہیں دیتا۔وہ بعض دفعہ لکھوکھا روپے کی قیمت دے دیتا ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جو اللہ پر ایمان لانے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔دنیا دار کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آسکتی۔اور پھر بے شمار تقویٰ کے نتائج دور رس ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں، جو آئندہ نسلوں تک بھی پہنچتے ہیں۔اس لئے اس بارے میں جتنی بھی تاکید کی جائے کم ہے کہ خرچ کرنے والے تقویٰ کے معیار پر قائم ہوں۔اور اگر کسی کی آنکھ کے سامنے ان کے نقائص نہیں بھی آتے ، تب بھی خدا کا خوف اختیار کریں۔کیونکہ دنیا کے اموال کھانا بھی ایک بددیانتی ہے اور مکروہ چیز ہے لیکن وہ مال، جو دینے والوں نے پتہ نہیں کس کس پاکیزہ نیت کے ساتھ ، کسی پیار کے ساتھ ، کس محبت کے ساتھ ، کیا کیا قربانیاں کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش کیا۔اس مال پر منہ مارنا تو نہایت ہی گندی حرکت ہے۔عام معیار سے بہت زیادہ گری ہوئی حرکت ہے۔واقفین کی ایک اور بھی قسم ہے، ہمارے ہاں، جو کماتی بھی ہے جماعت کے لئے اور خرچ بھی کرتی ہے۔اور میری مراد ڈاکٹر سے ہے۔افریقہ کے مختلف ممالک میں ہمارے ایسے واقفین ڈاکٹر کام کر رہے ہیں اور ربوہ میں بھی ہسپتال میں ایسے واقفین ڈاکٹر کام کر رہے ہیں کہ اگر وہ دنیا میں ویسے کمائی کے لئے نکلتے تو ہزار ہا اور بعض صورتوں میں لکھوکھا بھی کما سکتے تھے۔کیونکہ سرجن وغیرہ کی بہت بڑی قیمت ہوتی ہے۔آج کل تو امریکہ اور انگلستان وغیرہ میں ایسے ماہر سرجن ہیں، جن کی سالانہ آمد لکھوکھاڈالر زیا توامریکہ اور کی 336