تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 335
خطبہ جمعہ فرمودہ 104 اپریل 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک خرچ ہے اور سفر خرچ۔یہ وہ چار شعبے ہیں، جہاں سے بے احتیاطی شروع ہوتی ہے اور جب یہ بے احتیاطی آگے بڑھ جائے تو پھر بد دیانتی شروع ہو جاتی ہے۔جو پھر ہر شعبہ پر اثر انداز ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے الا ماشاء اللہ اگر خدا کسی کی پردہ پوشی نہ فرمائے تو میں کہہ نہیں سکتا مگر بظاہر بددیانتی کی کوئی مثالیں میرے سامنے نہیں آئیں۔بہت ہی شاز کے طور پر بعض جماعت میں واقعات ہوتے ہیں بدیانتی کے مگر وہ ضروری نہیں کہ کارکنان ہی میں ہوں، چندہ وصول کرنے والوں میں بھی ہوتے ہیں۔وہ اتنا تھوڑا ہے کہ وہ نا ممکن ہے عملا کہ کسی قوم کے معیار کو اتنا بلند کر دیا جائے کہ ایک فرد بشر بھی کوئی کمزوری نہ دکھائے۔کوشش تو ہونی چاہئے مگر بہر حال ایک آئیڈیل ایسا ہے، جسے انسان کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتا۔جہاں تک عام معیار کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے واضح بددیانتی موجود نہیں ہے۔لیکن بے احتیاطی کی بد دیانتی ضرور موجود ہے اور وقت ہے کہ ہم اسے سختی کے ساتھ دبائیں۔ایک آدمی جو انگلستان بیٹھا ہوایا امریکہ میں بیٹھا ہوا اپنے خرچ پر اپنے گھر فون نہیں کر سکتا ، اگر اس کو یہ سہولت ہو کہ جماعت کے خرچ پر جبکہ کوئی نہیں دیکھ رہا، جتنا چاہے فون کر لے اور ہرلمحہ جو گزرتا ہے، اس کا فون پر اس کا دل اتنا نہ کٹ رہا ہو کہ جماعت کا اتنا خرچ ہو رہا ہے تو یہاں اس کو میں کہتا ہوں، وہ بے احتیاطی جو بد دیانتی پر منتج ہو جاتی ہے۔خواہ انسان واضح طور پر اس بات کو سوچے یا نہ سوچے۔لیکن بہترین حل اس کا یہ ہے کہ ہر وہ خرچ ، جو اپنے طور پر وہ کر سکتا ہے، اگر اس خرچ کے وقت اس کو تکلیف ہوتی ہے اور جماعت کے اسی قسم کے خرچ پر تکلیف نہیں ہوتی تو ایسا شخص تقویٰ کے معیار سے گرا ہوا ہے۔بجلیاں جل رہی ہیں تو جلتی چلی جارہی ہیں، پرواہ ہی کوئی نہیں۔اور بے شمار خرچ اس کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔سردی کے موسم میں گرمی کی ضرورت پڑتی ہے، گیس جل رہی ہے اور بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ جل رہی ہے، کھڑکیاں بھی کھلی ہیں، تب بھی کوئی پرواہ نہیں۔ان چیزوں کو آپ بے احتیاطیاں کہیں گے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ بے احتیاطیاں بے دردی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور بے دردی اور بے حسی اور تقویٰ اکٹھے نہیں رہا کرتے۔ایسی بے درودی اور ایسی بے حسی جو فرق کر کے دکھائے، جماعت کے خرچ میں تو موجود ہو اور ذاتی خرچ میں موجود نہ ہو ، وہ تقویٰ کے خلاف ہے۔اور یہ صورت حال بالآخر بد دیانتی پر منتج ہو جاتی ہے۔اس لئے اب ہم نے آڈٹ کے انتظام کو زیادہ منظم کیا ہے اور بہت زور دیا جا رہا ہے کہ ہر جگہ آزاد آڈیٹر یعنی حساب کرنے والے جو جماعتی نظام سے بالکل آزاد ہوں، وہ اپنی رپورٹیں براہ راست مجھے بھجوائیں۔اور ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی آؤٹ کی رپورٹ پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ 335