تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 337
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 104 اپریل 1986ء لکھوکھا پاؤنڈ ز تک پہنچتی ہے۔اور عملاً یوں لگتا ہے جیسے سرجن سونے کی کان تک پہنچ گیا ہے۔دوسرے ڈاکٹروں کی بھی بعض ملکوں میں بہت قیمت ہے۔پاکستان میں بھی آج کل ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے علاج بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔اتنے مہنگے ہو گئے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیماری سے مرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ پیسے دے کر مرے ڈاکٹر کو آدمی۔واقعی نا قابل برداشت ہے۔ایسی صورت میں ڈاکٹروں کا وقف کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے ہنر کو مائی کا ذریعہ بنا کر پیش کر دینا، ایک بہت عظیم الشان خدمت ہے۔بہت اونچا مقام ہے، یہ تقویٰ کا لیکن اس کے تقاضے پورے کریں ، تب۔اگر پیش تو کر دیں لیکن تقاضے پورے نہ کریں تو پھر اسی حد تک یہ گری ہوئی بات بن جاتی ہے۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے سرسری، مجھے بعض خطرات دکھائی دینے لگے ہیں۔بعض دفعہ آؤٹ کی رپورٹ نہ بھی پہنچ رہی ہو ، عمومی بے برکتی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ خرابی ضرور موجود ہے۔اور یہ ہسپتالوں میں عمومی بے برکتی کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ہر جگہ جماعت کے ہسپتالوں میں یہ رجحان میں دیکھ رہا ہوں کہ جہاں پہلے غیر معمولی برکت تھی ، ایک خوشی اور بشاشت کا ماحول تھا، سارے لوگ ارد گر دخوش تھے، تعریفوں کے خطوط آتے تھے اور شفا بہت تھی ان کے ہاتھوں میں، اس کے برعکس صورت پیدا ہو گئی ہے۔اب شکایتیں آنی شروع ہوگئی ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، آڈیٹر خواہ پکڑ سکے یا نہ پکڑ سکے، جب عموماً خلق خدا ناراض ہونی شروع ہو جائے ، خلق خدا میں بے چینی پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب ہے ضرور کچھ نہ کچھ ہورہا ہے۔اور کام کرنے والے کی نیتیں جب بگڑتی ہیں تو پھر بے برکتی ضرور پیدا ہوتی ہے۔وہ آپ نے واقعہ سنا ہی ہوگا کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ شکار میں بھٹک گیا اور ایک صحرا میں نخلستان ہوتے ہیں یا باغ تھا چھوٹا سا وہاں پہنچ گیا۔شدید گرمی تھی ، وہاں ایک مالی کی بیٹی دیکھ بھال کر رہی تھی، چیزوں کی۔اس نے اس سے کہا کہ مجھے شدید پیاس لگی ہے۔اس نے کہا: تشریف رکھیں، میں ابھی آپ کے لئے رس نکالتی ہوں۔چنانچہ کچھ پھل اس نے توڑے اور اس کے سامنے ان کا رس نکال کر اس کو پیش کیا۔تین یا چار پھلوں میں وہ گلاس بھر گیا۔جب بادشاہ نے وہ گلاس پی لیا تو اسی دوران اس نے حساب بھی کرنا شروع کیا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ یہ باغ ہے اتنا بڑا اور اس میں فی درخت تقریباً اتنے پھل ہیں اور تین چار پھلوں کے اندر ہی ایک گلاس جوس سے بھر گیا ہے۔اگر اس کی قیمت اتنی ہو تو اس باغ کی تو اتنی قیمت بنتی ہے۔اور حکومت تو اس سے بہت ہی تھوڑ انیکس لے رہی ہے، کم سے کم دس گنا ٹیکس ایسے باغوں کا 337