تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 304

پیغام بر موقع جلسه سالانه نائیجیریا تحریک جدید - ایک الہی تحریک اکرمکم عند الله اتقاكم وليس لعربى على فضل الابالتقوى“ کہ اللہ کے نزدیک تم میں سے بزرگ وہی ہے، جو تم میں سے سب سے زیادہ تقوی شعار ہے۔کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی وجہ فضیلت نہیں سوائے تقوی کے۔اسلام انسان کو تقوی، تذلل اور خدمت کے اس مقام پر قائم کرتا ہے، جہاں کسی عہدہ کی خواہش تو کجا، اس کی سپردگی بھی اس کی روح کو لرزاں کر دیتی ہے۔چنانچہ امت مسلمہ میں اہل اللہ کی ایسی مثالیں موجود ہیں، جنہیں آج بھی امت عقیدت کے ساتھ یاد کرتی ہے۔ان کو جب کسی عہدہ کی پیشکش کی گئی تو وہ کانپ اٹھے اور محض اس وجہ سے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ ہم خود کو بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی کے اہل نہیں پاتے۔اس وجہ سے کہیں خدا تعالیٰ کے حضور مجرم نہ ہو جائیں۔چنانچہ انہوں نے کوڑے کھانے پسند کئے اور معمولی سے معمولی مزدوری کے کام کو ترجیح دی مگر سرداری کرنے اور عہدہ لینے۔خوف کھایا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجود اس کے کہ اپنا دن رات اور اپنے وجود کا ذرہ ذرہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجا آوری میں قربان کر چکے تھے مگر پھر بھی یہ حال تھا کہ ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں مجھ سے کسی کے حقوق کی ادائیگی میں کمی نہ ہو گئی ہو۔پس یہ وہ سبق ہیں، جو اسلام نے ہمیں سکھائے ہیں۔وہ ہمیں خدمت سے اس مقام پر پہنچنے کی تعلیم دیتا ہے، جہاں انسان کی روح اور اس کا دل خاک نشین ہو جاتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ اس کا رفع کرتا ہے اور اس کو ایسی رفعتوں اور عظمتوں سے نوازتا ہے کہ رضوان یار کا تاج اس کو عطا کیا جاتا ہے۔اور وہ انسانوں کا سردار ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے پیاروں میں بھی شمار ہوتا ہے۔قومی عصبیت اور عہدہ کی طلب زمانہ جاہلیت کے افکار تھے یا آج مغربیت کا زہر ہیں، جن سے جماعت احمد یہ کلیہ پاک ہے اور بیزار ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ جماعت احمد یہ ان سے اپنے دامن کو پاک رکھے گی اور ہمیشہ رضوان یار کی طلب گار رہے گی۔ہماری ایک ہی منزل ہے اور ایک ہی مطمح نظر، جس کے حصول کے لئے ہر کوئی چھوٹا ہے یا بڑا ؟ خادم ہے یا مخدوم ایک ہی راہ پر گامزن ہے۔اور ایک ہی دین، دین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سر بلندی کے لئے کوشاں ہے ، اس لئے ہر احمدی عظیم ہے۔304