تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 230
خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم پیدا ہوئی، اس کی آبیاری کس نے کی؟ جانور تو نہیں چر گئے، اگر آبیاری کسی نے کی بھی تھی۔بے شمار ایسے مسائل ہیں جو نباتاتی مسائل ہیں لیکن روحانی دنیا پر بھی اطلاق پاتے ہیں۔اس لئے اب تو ضرورت ہے کہ ایک ایک درخت کاشت ہو اور اس کی حفاظت کی جائے۔مسلسل اس سے رابطہ رہے۔اور اس وجہ سے مجھے اب اس وقف عارضی کے پروگرام کو بدلنا پڑے گا۔اب تو ہمیں ایسے واقفین کی ضرورت ہے، جو جا کے کسی ایک جگہ ٹھہر کے ذاتی دوستیاں بنائیں اور پھر وہاں ٹھہرے رہیں اور تعلقات بنائیں۔پھر ان کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں۔ذہانت کے ساتھ مطالعہ کریں کہ کون سے لوگ ہیں، جن میں اس قدر سنجیدگی پائی جاتی ہے کہ وہ مذہب کا مطالعہ کریں؟ ان کے خیالات کو Excite کریں، ان کو روحانیت کا پیغام دیں، ان کے لئے دعائیں کریں۔اور ان کے اندر دعا کی طلب پیدا کریں اور ان کو بتائیں کہ ہمارا ایک خدا ہے۔یہی آج اس قوم کے دل کی آواز ہے کہ اگر خدا ہے تو کہاں ہے؟ اور وہ کیوں ہم سے رابطہ نہیں رکھتا؟ تو ذاتی رابطہ اور بہت سنجیدگی کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا، پھر جلد از جلد خدا کی طرف لے کے آنا اور اس سلسلہ میں دعاؤں پر زور دے کر ان پر ثابت کرنا کہ روحانیت کوئی فرضی چیز نہیں ہے بلکہ زندہ حقیقتوں میں سے ایک زندہ حقیقت ہے۔اور ان کو یہ بتانا کہ دیکھو دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں، تمہیں دکھاتے ہیں کہ وہ کون سا خدا ہے، جس نے ہم سے رابطہ کیا ہے؟ اس قسم کے واقفین ہیں، جو وہاں کامیاب ہوسکیں گے۔اور اسی نہج پر آئندہ پین میں کام کرنا چاہئے۔ورنہ تو پین کی باہر کی دنیا ایک بالکل مردہ دنیا ہے۔وہاں غرناطہ میں جب وہ سوال کر رہے تھے تو مجھے خیال آیا کہ بالکل یوں معلوم ہوتا ہے کہ بے بصیرت لوگ ہیں، جن کو روشنی کے ہوتے ہوئے بھی پوری طرح اندھیرا دکھائی دے رہا ہے۔یعنی خدا کا وجود جو ہر ذرہ سے ظاہر ہوتا ہے اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں بول رہا ہے، نہ اس کی آواز کو ان کے کان سن سکتے ہیں، نہ اس نور کو وہ کسی پہلو سے بھی دیکھ سکتے ہیں، کلیہ ایک خلا محسوس ہو رہا ہے۔اور جس خدا پر وہ ایمان لا رہے ہیں، وہ بھی ایک قدیم زمانہ کا خدا ہے۔جو ماضی میں سینکڑوں، ہزاروں سال پیچھے رہ چکا ہے۔زندہ قدم بقدم ساتھ چلنے والا اور سہارا دینے والا ، آئندہ کی راہ دکھانے والا، آئندہ کی امیدیں پیدا کرنے والا ایسا کوئی خدا ان کو معلوم نہیں۔اس لئے یہ ایک مرکزی حقیقت ہے، جس پر زور دے کر ایسے ملکوں میں تبلیغ کامیاب ہو سکے گی۔اس لئے آئندہ اس نہج پر کام ہونا چاہئے۔غرناطہ ہی میں، میں نے وہاں ایک مثال سنی، جو بڑی دلچسپ ہے، جو غرناطہ کے حسن کے متعلق بیان کی جاتی ہے۔سپینش کہاوت ہے کہ غرناطہ کے اندھے یہ آواز دیتے ہیں کہ اے خاتون ! کچھ راہ مولیٰ 230