تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 229
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء خوشی کے ویسے اظہار سے، ہر رنگ میں ان کی کیفیت بدل جاتی ہے، اسلامی تصورات کے لئے ان کی آنکھوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ غرناطہ میں بھی یہی نظر آیا۔لیکن اس میں ابھی بہت کام ہے۔اتنا وسیع کام کرنے والا ہے کہ جس کی وجہ سے طبیعت پر بہت ہی افسردگی کہنا چاہئے یا احساس غم اور دکھ کا کہ ہم کس طرح یہ کریں گے ؟ اور ہم کیا کریں؟ اور کتنی جلد ہونا چاہئے؟ اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اپنی بے بضاعتی کی طرف توجہ اور کام کی شدت اور اس کی وسعت اور زمانے کی رفتار اور پھر اپنے پاس جو کچھ ہے۔کس قسم کے ہمیں آدمی چاہئیں، کس قدر وسیع رابطہ نہیں کرنے کی ضرورت ہے۔بے شمار ایسے موازنے تھے، جو ذہن میں ابھرتے تھے اور طبیعت کو شدید طور پر بے چین کر دیتے تھے۔چنانچہ میں نے وہاں غور کیا تو اب یہ نتیجہ نکالا ہے کہ واقفین عارضی، جس طرح جا کر وہاں کام کرتے ہیں، اس وقت ویسے کام کی ضرورت نہیں ہے۔محض آپ علاقے میں پھر کر اشتہار تقسیم کر دیں اور اس کے بعد پھر دوسرا واقف زندگی کسی اور جگہ جائے اور پھر وہ کچھ لوگوں میں اشتہار تقسیم کر جائے۔اس کا ضرور لطف آتا ہے اور اس طرح ایک دفعہ پیغام بھی پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے نتیجہ میں اہل سپین سے گہر ا رابطہ قائم ہو جائے ، یہ بات درست نہیں ہے۔گہرا ہو ، جہاں تک وسیع پیمانے پر Publicity کا تعلق ہے، وہ تو خدا کے فضل سے پہلے ہی ہمیں وہاں مل رہی ہے۔ریڈیو کے ذریعہ، ٹیلی وژن کے ذریعہ اور اخبارات کے ذریعہ میر صاحب اس معاملہ میں بڑے ماہر ہیں اور انہوں نے بڑا وسیع رابطہ رکھا ہوا ہے۔ان کے آنے سے پہلے بھی ہمارے مولوی کرم الہی صاحب ظفر نے بھی ایسے نامساعد حالات میں جبکہ کچھ بھی ان کے پاس نہیں تھا، انہوں نے بھی یہ رابطہ بڑی عمدگی کے ساتھ قائم کیا۔ان کے بڑے نیک اثرات تھے، جو ہم نے افتتاح کے وقت محسوس کئے۔تو دونوں مبلغ اس فن کے ماہر ہیں۔اور اسلام کی آواز مختلف ذرائع سے وسیع پیمانے پر اس قوم تک پہنچ رہی ہے۔لیکن اس سے تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی، اس سے صرف ہماری موجودگی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔اس وقت ضرورت ہے کہ اس رنگ میں وہاں کام کیا جائے اور مبلغین کو بھی میں نے سمجھایا ہے کہ دانشوروں سے رابطہ اور اپنے احمدی دوستوں کے ذریعہ مجالس کا انعقاد، جہاں مبلغ جائے اور سوال وجواب کی مجالس لگائے اور ذاتی رابطہ ہو ، جو کھویا نہ جائے۔بار بار ان سے ملاقاتیں ہوں اور ان کو بار بارسمجھایا جائے۔اس طرح محنت کے ساتھ ایک ایک بیج بونے کی ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ گزرتے ہوئے ہواؤں میں آپ چھٹا دے دیں اور پھر بھول جائیں کہ اس بیچ کا کیا بنا؟ وہ زمین میں داخل بھی ہوا کہ نہیں؟ اور اگر ہوا بھی تھا تو جڑیں نکل بھی آئیں تو اس میں روئیدگی جو 229