تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 231

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء مجھے خیرات دیتی جاؤ۔کیونکہ غرناطہ کے اندھے سے زیادہ دنیا میں اور کوئی محروم اور قابل رحم چیز نہیں ہے۔اتنا حسن ! اور آنکھیں حسن کو دیکھنے سے عاری رہیں!! چنانچہ وہ مثال مجھے یاد آئی اور میں نے سوچا کہ ایک غرناطہ نہیں، اس وقت سارا ندلس سارا سپین اندھوں سے بھرا ہوا ہے، خدا کے نور سے نا آشنا ہیں۔اصل حسن سے نا آشنا ہیں اور دیکھ نہیں سکتے۔ان کی نہایت ہی قابل رحم حالت ہے۔وہ، جو ان کو اس حسن کی خیرات دینا چاہتے ہیں ، وہ خیرات لینے سے بھی انکار کر رہے ہیں۔اسے لینے کے لئے ان کے ہاتھ آگے نہیں بڑھتے۔تب میری توجہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف منتقل ہوئی:۔وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ (بنی اسرائیل: 84) کس قدر حسرت کا مقام ہے کہ جب ہم نعمت دیتے ہیں انسان کو، اعرض و نابجانبه وہ منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے۔اور انکار کر دیتا ہے، اس کو قبول کرنے سے۔اس وقت یورپ کے اندھے تو غرناطہ کے اندھے بنے ہوئے ہیں۔قابل رحم تو ہیں لیکن لینے کی کوئی طلب نہیں ہے۔واقفین عارضی کو وہ طلب بھی پیدا کرنی پڑے گی۔ان کو یہ بینائی بھی دینی پڑے گی کہ تم محروم ہو اور ہم نہ صرف حسن لے کر آئے ہیں بلکہ تمہیں یہ بتانے بھی آئے ہیں کہ یہ حسن ہے اور تم اس سے محروم بیٹھے ہوئے ہو۔یہ دو کام ہیں۔آپ کا ایک کام نہیں رہا، آپ نے یہ خیرات ان کی جھولی میں ڈالنی بھی ہے اور اس خیرات کے لئے طلب بھی پیدا کرنی ہے۔اس کے لئے آپ کو خود حسین ہونا پڑے گا۔ان صفات سے مزین ہونا پڑے گا، جو نہ صرف یہ کہ حسن کی جاذبیت رکھتی ہیں بلکہ حسن کی جاذبیت کو دیکھنے والی آنکھ پیدا کر سکتی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے حسن میں یہ دونوں صفات پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حسن کا یہ کمال ہے کہ وہ اندھوں کو پہلے بینائی بخشتا ہے اور پھر اس بینائی کے سامنے اپنا جلوہ دکھاتا ہے۔چنانچہ وَوَجَدَكَ ضَا لَّا فَهَدَى (الضحی :08) میں ایک یہ بھی فلسفہ بیان فرمایا گیا ہے کہ تجھے تو ہم نے بھٹکتا ہوا پایا تھا ، ہم نے تجھے ہدایت دی۔یعنی اپنی طرف آنے کے لئے ہم نے ہی سب کچھ تمہیں عطا کیا تھا۔آغاز میں جو طلب پیدا کی ، وہ بھی ہم نے پیدا کی ، دیکھنے کی توفیق بھی ہم نے بخشی ، پھر جلوہ بھی ہم نے دکھایا۔تو کلیۂ ہدایت کے سارے مراحل کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر عائد ہوتی ہے۔اس لئے اہل سپین کے اندھوں کو اگر آپ نے جا کر اسلام کی طرف مائل کرنا ہے تو حسن بھی بخشنا ہے اور حسن کی آنکھ بھی عطا کرنی ہے۔اس کے لئے آپ کو صفات باری تعالیٰ سے مزین ہونا چاہئے۔231