تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 228
خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم ایسی عام بغاوت تمہارے معاشرہ کے خلاف اور تمہاری فلاسفی کے خلاف نظر نہ آتی ، جو اس وقت نظر آرہی ہے۔تو Roman Catholicism کا تو مقابلے کا سوال نہیں۔کیونکہ وہ تو تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ نا کام ہو چکا ہے۔اور جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اس کے بارہ میں ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کیوں کامیاب ہوگا ؟ یہ عمومی تاثر تھا، جو وہاں پید رو آباد میں مجھ پر پڑا۔لیکن غرناطہ میں جا کہ چونکہ دانشور لوگ آئے ہوئے تھے، وہاں یہ محسوس ہوا کہ یہ تو بہت ہی گہراز ہر ہے، جو معاشرے میں پھیل چکا ہے۔اشتراکیت ہی نہیں ، اشتراکیت کے سوا بھی خدا کے خلاف بغاوت، مذہب کے خلاف بغاوت اور ان سب قدروں کو پیچھے چھوڑ کرکسی نئی چیز کی تلاش۔اور یہ وہ چیز ہے، جو احمدیت کے سوا کوئی ان کو دے ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے۔اور کسی کے پاس ہے ہی نہیں۔اور جس قسم کے سوال وہ کرتے ہیں، جو Orthodox Islam آج کل کہلاتا ہے۔Orthodox تو اصل میں ہم ہیں۔کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ ہی سے اسلام شروع ہوا اور سے Orthodox تو وہ زمانہ کہلانا چاہئے۔لیکن موجودہ اصطلاح میں جب Orthodox کہا جاتا ہے۔Medieval Islam مراد ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اسلام مراد نہیں۔بیچ کی صدیوں میں جہاں اسلام میں تشدد پیدا ہوا یا جہاں اسلام میں بدقسمتی سے بعض جاہلانہ خیالات بھی آگئے ، بعض کم علم لوگوں نے اسلامی علوم پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، اس زمانہ کو Medeival Islam سمجھا جاتا ہے۔اور اسی کا نام آج کل Orthodox Islam ہے۔تو Orthodox Islam کے پاس سارے نمائندے آپ جانتے کہ کس قسم کے علماء ہیں۔ان کے پاس تو ان سوالات کا کوئی جواب نہیں۔ان کو تو خود ان سوالوں کا ہی علم نہیں۔ان کی سوچ کی جو سچ ہے، وہ بالکل مختلف سمتوں میں جارہی ہے۔ایک دانشور کو قرآن اور حدیث سے مطمئن کرنا، یہ وہ معجزہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معجزہ ہے۔اور بڑے سے بڑے عالم اور بڑے سے بڑے فلسفی کے سامنے بھی ایک احمدی نہ صرف یہ کہ عاجز نہیں آسکتا بلکہ اپنی برتری کو یوں محسوس کرتا ہے، جیسے وہ بلند منزل سے نیچے کسی چیز کو دیکھ رہا ہو۔احمدیت کے علم کلام میں اتنا یقین اور اتنی قوت ہے کہ اس کو جب آپ بیان کرتے ہیں تو دلوں میں داخل ہوتا ہوا نظر آرہا ہوتا ہے۔اور کبھی ایسا نہیں ہوا، الا ماشاء اللہ اتفاق سے ہزار میں سے کبھی ایک ضدی نکل آئے تو وہ اور بات ہے، ورنہ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شدت سے سوال کرنے والا پوری شدت اور غصے اور جذبہ سے سوال کرے اور پھر پوری شدت اور جذبہ کے ساتھ بعد میں تائید نہ کرے۔سر ہلا ہلا کر بھی اور 228