تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 138

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 اگست 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتہ چنانچہ اور باتوں کے علاوہ ابھی جب بچیوں کی تربیتی کلاس لگی ہے تو گیارہ سال سے لے کر پچیس سال کی بچیاں ، جن کی مائیں ہر وقت فکر مند رہتی تھیں کہ اسلامی معاشرہ کا ماحول ان کو نصیب نہیں ہے، کوئی ایسی جگہ نہیں ہے، جہاں ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو، پتہ ہو کہ اسلام ان سے کیا تقاضے کرتا ہے؟ ان کی خاطر اسلام کیا کیا سہولتیں ان کو مہیا فرماتا ہے؟ اسلامی زندگی قید نہیں ہے بلکہ ایک نعمت ہے۔اس قسم کی باتیں جب تک ایک غالب معاشرے کے اندر کوئی داخل ہو کر تجربے میں سے نہ گزرے، یقین نہیں کر سکتا۔اب نظریاتی لحاظ سے لاکھ ان کو سمجھا دیں، جب تک اسلامی معاشرہ کو کوئی چکھے نہ، اس ماحول میں سے نہ گذرے، اسے میسر ہی نہیں آسکتی یہ بات۔اب جب وہاں تربیتی کلاس ہوئی ہے بچیوں کی تو اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایسے سارے فوائد ان کو میسر آگئے، جو لندن کی مسجد میں یا کسی اور جگہ میسر آہی نہیں سکتے تھے۔دن رات وہاں ٹھہرنا، بہترین ہوٹل خدا نے بنے بنائے دے دیئے۔کھیلوں کے کھلے میدان کسی پردے کی ضرورت نہیں۔وہاں دوڑتی پھرتی تھیں، آزادی کے ساتھ۔ان کو تیرا کی بھی سکھائی گئی ، ان کو گھوڑا سواری بھی سکھائی گئی ، ان کو تیراندازی بھی سکھائی گئی، ان کو بندوق چلانا بھی سکھایا گیا، ان کو سائیکلنگ بھی سکھائی گئی۔ہر قسم کی دلچسپیاں وہ پہلے دیکھا کرتی تھیں کہ غیر قو میں ان سے مزے لوٹ رہی ہیں اور ہمارے لئے گویا حرام ہیں۔ان کو بتایا گیا کہ کچھ بھی تمہارے لئے یہ حرام نہیں۔ہاں بعض شرائط ہیں۔تمہاری پاک دامنی کی حفاظت کی شرط کے ساتھ، ہر چیز تمہارے لئے جائز ہے۔پھر ہر قسم کے علوم ان کو دیئے گئے ، گھر گرہستی کے طریق ان کو سمجھائے گئے۔کوئی پہلو ایسا نہیں رکھا، جس سے ایک عورت کی شخصیت میں حسن پیدا ہوتا ہو اور وہ ان کو وہاں دینے کی نہ کوشش کی گئی ہو۔متوازن احمدی خاتون کی شخصیت، جو ہماری مستقبل کے بچوں کی ذمہ دار ہے، اس کی تعمیر کرنے میں اسلام آباد نے تین ہفتے میں ایک ایسا کردار ادا کیا ہے کہ آپ اس سے پہلے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔چنانچہ باہر سے آئی ہوئی بچیاں صرف انگلستان سے نہیں، یورپ سے، امریکہ سے، کینیڈا سے، ان کی تو بالکل آنکھیں کھل گئیں۔میں نے بچیوں سے جب الگ الگ پوچھا تو بڑے دلچسپ جواب مجھے ملے ہیں۔ایک بچی نے کہا کہ مجھے تو اب معلوم ہوا ہے کہ میرا وجود ہے کیا ؟ اپنی زندگی کا مقصد مجھے سمجھ آگیا ہے۔ایک بچی نے بتایا کہ Now I know where I belong ماں باپ میرے احمدی تھے۔(والد تو ان کے سوئس ہیں، جو عیسائیوں سے مسلمان ہوئے) لیکن اس نے ایک فقرے میں بڑی گہری بات اور بڑے پیار کی بات کہہ دی کہ: For the first time, now I realised where I belong۔138