تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 139
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 اگست 1985ء باپ احمدی ہیں مگر اسی یورو چین ماحول میں پلی ہے، اچھا ماحول ہے لیکن ان تین ہفتوں نے اسے بتادیا کہ تم کس جگہ سے تعلق رکھنے والی ہو، کیا تمہارا مقام ہے۔اور جو پہلی ساری زندگی کے سبق اس کو نہیں بتا سکے تھے۔اور ایسے ایسے عجیب خطوط بچیوں کے موصول ہو رہے ہیں کہ ہر روز پڑھ کے میرا دل حمد اور شکر سے بھر جاتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ہمیں تو خدا تعالیٰ نے بچالیا ہے۔آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ ہمارے اندر کیا انقلابات برپا ہوئے ہیں۔احمدیت سے تعلق ، اسلام کی محبت اور ذاتی وابستگی، اللہ تعالیٰ سے پیار، یہ ساری نعمتیں ہمیں دو، تین ہفتے میں ایسی مل گئی ہیں کہ بعض بچیوں نے کہا ہے کہ اب تو ہم بے قراری سے اگلے سال کا انتظار کر رہی ہیں۔حالانکہ اس سے پہلے منتظمین کا تاثر یہ تھا کہ تین ہفتے بہت لمبا وقت دے دیا گیا ہے، اس میں تو بچیاں بور ہو جائیں گی۔تو بور ہونے کی بجائے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ولولے لے کر لوٹی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ان کو دیکھ کر کہ کتنی جلدی ان میں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ کیا تھا کہ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ اس وعدہ کو ہم ہر جہت میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔احمدیوں کی نئی نسلیں سنور رہی ہیں، اس ابتلاء کے نتیجہ میں۔ہر دل میں نئی وسعتیں پیدا ہو رہی ہیں، ہر ذہن میں نئی وسعتیں پیدا ہو رہی ہیں۔اور یہ وسعتیں ہیں، جو باہر کے لوگ اپنی کوتاہ بینی کے نتیجے میں دیکھ نہیں سکتے۔یہ تو کوئی صاحب ایمان ہی ہے، جس کی نظر دیکھ لیتی ہے، ان چیزوں کو یاوہ جن کے دل پر گذرتی ہے۔اور یہ وسعتیں ساری دنیا میں تمام احمدیوں کو نصیب ہو رہی ہیں۔فجی میں بیٹھے لوگ، جو دور دراز ایک جزیرہ ہے، وہ بھی لکھ رہے ہیں کہ اس ابتلاء میں تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں نئے حوصلے، نئے ولولے عطا کر دیئے ہیں۔احمدیت کے لئے خدمت کی جو تمنا اب پیدا ہوئی ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔افریقہ کے بیابان جنگلوں میں اور وہ جسے تاریک براعظم کہا جاتا ہے، ان کے تاریک ترین گوشوں سے ایسے خط آرہے ہیں کہ جو ابتلاء کا حوالہ دے کر یہ لکھتے ہیں کہ یہ ابتلاء کیا آیا ہے، ہمیں تو اللہ تعالی نے روشنی عطا کر دی ہے، نیا نور بخش دیا ہے۔اب ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں لٹا دیں گے۔اور باتوں کو چھوڑ دیجئے ، یہ جوقلبی کیفیات میں وسعتیں نصیب ہوئی ہیں اور دماغوں میں جو پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، یہی ایک عظیم الشان خدا تعالیٰ کا انعام ہے کہ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا 139