تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 137
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد؟ اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اگست 1985ء ہر سمت میں خدا تعالی ہماری زمینوں کو وسعتیں عطا فرماتا چلا جارہا ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اگست 1985ء۔۔۔جب مومن کو غم ملتا ہے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اس کی قربانی کا مادہ بڑھ جاتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ملتی ہے تو نیا حوصلہ آ جاتا ہے اور یقین کر لیتا ہے کہ ہم جو قربانی بھی خدا کی خاطر کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں اس دنیا میں بھی اجر پانے لگ جاتے ہیں۔پھر بھی اس کی قربانی کا مادہ بڑھتا ہے اور اللہ کے فضل کی تقدیر اس کے لئے اس کے علاوہ بھی جاری ہوتی ہے۔ان کے مسائل آسان ہو جاتے ہیں، ان کی مشکلات دور ہو جاتی ہیں، غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف انہیں ایسی چیزیں مل جاتی ہیں، جو عام حالات میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔اور پھر کوئی جب غور کرتا ہے کہ یہ کیسے چیز ملی تو حیرت سے دیکھتا ہے کہ واقعہ سوائے اس کے کہ خدا کی تقدیر کام کر رہی ہو، ہمیں یہ اتنی نہیں چاہئے تھی۔چنانچہ مثلاً اسلام آباد، جماعت احمدیہ انگلستان کے لئے ایک یوروپین مرکز کے طور پر لیا گیا۔میرے ساتھ اس سلسلے میں کئی مہینے تک چوہدری انور احمد صاحب کا بلوں اور آفتاب احمد صاحب اور ارشد باقی صاحب نے محنت کی جگہیں تلاش کیں، کئی جگہ دل بھی آجاتا رہا، کئی جگہ سودے بھی ہو گئے لیکن عین آخری وقت میں آکر کوئی نہ کوئی وجہ ایسی ہو جاتی تھی کہ یا ہمارا دل اتر جاتا تھا یا جس سے خرید رہے تھے، اس کا دل اتر جاتا تھا۔اور جگہ ہم یہی بیان کیا کرتے تھے کہ یہ جگہ چاہئے۔اس سے ملتی جلتی کوئی تھوڑی سی ملتی تھی مگر بالکل یہ جگہ نہیں مل سکتی تھی۔اور لوگ بتاتے تھے کہ یہ ایسی جگہ انگلستان میں پھر آپ کہتے ہیں۔لندن کے قریب، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اور جب ہر طرف سے مایوسی ہوگئی تب یہ جگہ اچانک سامنے آئی۔تب اس کا اشتہار نکلا ، اس سے پہلے یہ مارکیٹ میں آئی نہیں تھی۔اور جب آئی ، اس وقت پتہ چلا کہ خدا تعالیٰ کیوں ہم سے یہ کھیلیں کھیل رہا تھا۔امیدیں دلاتا تھا، واپس لے لیتا تھا۔دل آتا تھا تو دل اتار دیتا تھا، کبھی ہمارا، کبھی دوسرے فریق کا۔تو جب یہ جگہ سامنے آئی ، اس وقت دل نے گواہی دے دی کہ ہاں یہ ہماری ہے اور وہ فورا ہماری ہو گئی۔اور اس کے نتیجہ میں بہت سی برکتیں ملی ہیں۔اس جماعت کو نئی وسعتیں مل گئی ہیں۔اتنا تیزی کے ساتھ اسلام آباد کے فوائد انگلستان کی جماعت محسوس کرنے لگی ہے کہ اب یوں لگتا ہے کہ اس کے بغیر ہم گزارہ کیسے کر رہے تھے۔! 137