تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 587

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود ه 12 جون 1987ء خلا محسوس ہوتا ہے۔لیکن آپ کو میں جس وجود کی عادت ڈالنے کے لئے کہہ رہا ہوں وہ تو دائی وجود ہے۔اس کا کبھی آپ کو خلا محسوس نہیں ہو گا۔ایسی عادت ڈالیں کہ جس عادت کا ہر حال میں ہمیشہ پورا ہوتے رہنا ممکن ہے۔کبھی ممکن ہی نہیں کہ یہ عادت آپ سے بے وفائی کرے یا وہ وجود آپ سے بے وفائی کرے۔یا اور یقین جانیں کہ دعا آپ کے اعمال کے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے لئے حیرت انگیز اثر دکھائے گی۔اور دعا کے نتیجے میں آپ کے سارے مشکل کام آسان ہو جائیں گے۔لیکن جب دعا کریں تو بلند حوصلہ رکھ کے دعا کریں، بلند ارادوں کے ساتھ دعا کریں۔محض Assylum کے لئے دعا کرنا یا محض چھوٹی موٹی مشکلات کے لئے یا بیوی بچوں کی بیماری کے لئے دعا کرنا، یہ تو بڑے وجود سے بہت ہی ادنیٰ ادی باتیں مانگ کر انہیں پر راضی ہو ر ہنے والی بات ہے۔جس سے مانگ رہے ہیں، اس کو لوظ رکھ کے حوصلے کی دعا کیا کریں۔عظیم دعائیں مانگا کریں، تمام دنیا کی اصلاح کی دعائیں کریں، یہ دعا کریں کہ آپ کو خدا کی توفیق ملے۔اس تمام علاقے کو اسلام کے لئے فتح کرنے والے ہوں۔بہت بڑے بڑے بول ہیں لیکن جس ذات سے دعا کر رہے ہیں، وہ ذات بھی تو بہت بڑی ہے۔اس کے متعلق آپ کا منہ یہ نے تھکتا نہیں کہ وہ بہت بڑی ، سب سے بڑی ہے ، سب سے بڑی ذات ہے، سب سے بڑی ذات ہے۔پس اس شخص کی شان کو لحوظ رکھ کر مانگا جاتا ہے، جس کے حضور آپ حاضر ہوں۔بادشاہوں کے حضور جب کوئی انسان حاضر ہوتا ہے تو ایک روٹی کا سوال تو نہیں کیا کرتا۔وہ تو ان کی حیثیت دیکھ کر، ان کی سابقہ روایات کوملحوظ رکھ کر ، ان کے خاندانی مزاج کو اور ان شاندار کہانیوں کو محوظ رکھ کر ، جو ان کے خاندانوں سے منسوب ہو چکی ہوتی ہیں، انسان مانگتا ہے“۔ایک عام انسان ایک معمولی سے بادشاہ کے حضور جب حاضر ہوتا ہے تو اپنی دعا کا حوصلہ بڑھا لیتا ہے، اپنی طلب کو وسعت عطا کر دیتا ہے۔آپ خدا سے دعا مانگیں اور چھوٹی چھوٹی دعاؤں پر راضی ہو کے رہ جائیں ، بڑا ہی نقصان کا سودا ہے۔لیکن چھوٹی دعائیں بھی اسی سے مانگیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ چھوٹی باتوں میں اپنے اوپر بھروسہ کر لیں اور بڑی باتوں میں اس کی طرف متوجہ ہوا کریں۔خدا اکبر ہی نہیں ہے، وہ عظیم بھی ہے۔اور عظیم کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرف اس کا وجود حاوی ہے۔ادنیٰ سے ادنیٰ وو چیزوں تک بھی اس کی پہنچ ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ چیزوں تک بھی اس کی پہنچ ہے۔وو " پس مانگنے میں حوصلہ بڑھائیں۔لیکن محض بلند حوصلہ نہ رکھیں ، ادنیٰ سے ادنی چیزوں میں بھی اس کی طرف جھکیں۔پس دعا میں انکساری کو بھی ملحوظ رکھیں۔جب آپ ادنی چیز مانگتے ہیں تو خدا کی نسبت سے نہیں، اپنی نسبت سے مانگتے ہیں۔جب اعلیٰ چیز مانگتے ہیں تو خدا کی نسبت سے مانگتے ہیں۔یہ راز ہے، جس کو آپ سمجھ لیں تو آپ کی دعا مکمل ہو جائے گی۔587