تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 586
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 12 جون 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم جن عظیم قوموں سے ہم ٹکرائے ہیں اسلام کے نمائندہ بن کر، وہ تو پہاڑوں کی طرح بلند تر ہیں۔حیرت انگیز طاقتیں انہوں نے حاصل کرلی ہیں، ذہانت میں علم کی گہرائی کے لحاظ سے، محنت کے لحاظ سے، ان عادات کے لحاظ سے، جو قوموں کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔یہ بہت زیادہ ہم۔آگے بڑھ چکے ہیں۔اس لئے ان سب مشکلات کا ایک ہی اور صرف ایک ہی حل ہے کہ ہم اس سے رابطہ کرلیں، جو سب سے بلند تر ہے۔جس سے ہم ہر روز ، مدتوں، بار بار یہ کہتے ہیں کہ اللہ اکبر اللہ اکبر، الله اکبر، اللہ اکبر، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔پس ان کی بڑائی کا ایک ہی علاج ہے کہ اپنی ذات کو اپنے رب کی عظمت عطا کریں۔اور یہ عظمت بھی عطا ہوسکتی ہے، جب آپ اپنے رب سے تعلق جوڑیں گے ، جب ہر روز اس سے عف سے تعلق جوڑیں گے ، جب ہر روز اس سے عظمتیں مانگیں گے ، ہر روز اس کی تکبیر دل کی گہرائیوں سے بلند کریں گے۔تا کہ یہ آسمان کے کنگروں تک پہنچے اور آسمان کی رفعتیں اس کے نتیجے میں حاصل کریں گے۔پس دعا ہی ہے، جس کے ذریعے سارے کام بنے ہیں۔آپ عادت ڈالیں۔عادت ڈال کے دیکھیں تو سہی۔آپ میں سے وہ لوگ، جو سو قسم کی کمزوریوں میں مبتلا ہیں ، کوشش کرنے کے باوجود ارادوں کے باوجود بھی نجات نہیں پاسکتے ، وہ دعائیں کریں۔دعاؤں سے دو قسم کے فائدہ ان کو حاصل ہوں گے۔ایک تو یہ کہ رفتہ رفتہ وہ کمزوریاں رفع ہونا شروع ہو جائیں گی اور دوسرے یہ کہ ان کمزوریوں کے دوران بھی خدا کے غضب کی نظر نہیں پڑے گی بلکہ رحم کی نظر پڑے گی۔وو پس ہر روز کا جو خطرہ اپنی بدیوں کی طرف سے لاحق ہوتا ہے، ہر روز جو ہلاکت کی موت کا خطرہ انسان کو درپیش ہوتا ہے، دعا کے نتیجے میں اس خطرے سے نجات مل جاتی ہے۔اس لئے بہت ہی برکتیں ہیں ، دعاؤں میں۔دعاؤں کی طرف توجہ کریں۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، دعا میں خلوص کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔زبان کی دعا یا صرف مصیبت میں گھرے ہوئے انسان کی دعا ایک وقتی اثر دکھاتی ہے۔لیکن وہ دعا جو مستقل تعلق باللہ کے نتیجے میں عطا ہوتی ہے، جو مستقل تعلق باللہ کا مظہر بن جایا کرتی ہے، ہر بات میں عادت پڑ جاتی ہے بلانے کی ، وہ دعا سیکھیں، اس دعا کی عادت ڈالیں۔پھر دیکھیں کہ آپ کی زندگی میں کتنی حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔کئی لوگ مجھے اپنے عزیزوں کی وفات کے بعد یہ لکھتے ہیں۔آج بھی ایک اس قسم کا خط ملا کہ میری بیوی بہت ہی پیاری تھی ، فوت ہوگئی۔اس کی عادت پڑ گئی تھی۔بات بات پر اس کی طرف جھکنا، بات بات پر اس کو آواز دینا۔اور اب اس کی جدائی سے اس وجہ سے بہت ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے، بہت ہی 586