تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 417
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اکتوبر 1986ء جاتا ہے، انسانیت کے لئے۔وہ چاہتے ہیں کہ ٹھوس اقدار پر زندگی بسر کریں اور اس کے لئے ایک بے چینی اور جستجو ہے۔اگر چہ دہریت بھی ہے اور جیسا کہ سارے مغربی ملکوں میں ہے۔لیکن دہریت میں بھی وہ شدت نہیں ہے۔بلکہ Agnosticism جس کو کہتے ہیں، یعنی لاعلمی کی دہریت، اس قسم کی دہریت زیادہ ہے۔شرارت کی دہریت نہیں ہے۔اور بات کو جلدی قبول کرتے ہیں، بہت جلدی اثر لیتے ہیں اور دلیل کو سمجھتے ہیں، متحمل مزاج لوگ ہیں۔ان کی دہریت کے متعلق ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ سناتا ہوں۔وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بھی شرکت کی توفیق ملی۔ٹیلیویژن کا ایک پروگرام تقریبا پچاس منٹ کا تھا، اس کا ایک حصہ سوال و جواب پر مشتمل تھا، ہر قسم کا سوال جو چاہیں، وہ کریں۔وہ Live پروگرام تھا ، یعنی ساتھ ساتھ وہ پروگرام دکھایا جارہا تھا۔اس میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتے تھے اور اس کا ایک حصہ ٹیلیفون پر سوالات کے لئے وقف تھا۔جو چاہے، ٹیلیفون پر سوال کرے، اس کو اسی وقت جواب دیا جاتا ہے۔اس کے دوران مشن کا نمبر بھی لکھا ہوا دکھایا اور بول کر بھی بتایا کہ اگر کسی کو دلچسپی ہو تو اس مشن سے، اس نمبر سے وہ رابطہ کر کے آئندہ اپنی سوالات کی پیاس بجھا سکتے ہیں۔اس پروگرام کے دوران ہی مشن ہاؤس میں فون آیا اور فون کرنے والے نے بتایا کہ میں تو پکار ہر یہ تھا لیکن یہ پروگرام دیکھتے ہی میرے اندر تبدیلی پیدا ہو گئی ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے موقع دیں اور میرے سوالات کا جواب دیں۔تو میں گہری دلچسپی لینا چاہتا ہوں۔اس مسئلہ میں ایسی اچھی اور فوری Respons ایک دہریہ کی طرف سے بڑا تعجب انگیز ہے اور خوش آئند ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دہریت بھی سطحی ہے۔ورنہ اتنی جلدی ایک ایسے پروگرام سے متاثر ہو جانا، جس کا براہ راست دہریت سے تعلق نہیں تھا۔یعنی مذہبی پروگرام تو تھا لیکن خاص طور پر دہریوں کے اعتراضات کے جوابات سے تعلق رکھنے والا پروگرام نہیں تھا، متفرق سوال تھے اور اس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور فائدہ یہ بھی ہوا کہ پاکستانی سوسائٹی، جس کو یک طرفہ پراپیگنڈے نے جماعت احمدیہ سے دور پھینکا ہوا تھا، وہ بھی اس پروگرام کو دلچسپی سے سنتی رہی اور اس کے نتیجہ میں دوسرے دن کی ہماری جو مجلس تھی، اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے، جنہوں نے گویا حلف اٹھا رکھے تھے کہ ہم نے جماعت احمدیہ کی بات کبھی سنی ہی نہیں۔ایک خاتون نے بتایا کہ میرے میاں اتنے دشمن ، اتنے شدید قسم کے متنفر تھے جماعت سے کہ گھر میں بھی ذکر تک نہیں چلنے دیتے اور وہ پروگرام دیکھنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں ان کی کل کی مجلس میں ضرور شامل ہوں گا۔اور جب وہ شامل ہوئے تو مجلس ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہیں گئے۔پھر مغرب 417