تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 418

خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم و عشاء کی نماز پر بیٹھے رہے۔پھر اس کے بعد جو ہماری اندرونی ایک مجلس لگی ، اس میں بھی شامل ہوئے اور وعشا کی نماز پیچھے کے بعد جوہماری میں بھی ہوئے! ان کے رویہ سے اور ان کے ساتھیوں کے، ان کے اور بھی بہت سے اہم ساتھی، جو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش تھے ، وہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے، ان کے رویہ سے پتہ چلتا تھا کہ ان کے اندر شرافت موجود ہے اور سعادت ہے۔بات کو محض ضد کی وجہ سے نہیں ٹالتے بلکہ یک طرفہ پراپیگنڈے سے متاثر ہوئے ہیں، اس لئے جماعت کے خلاف نفرت تھی۔یہ جو پروگرام تھے، ان کا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مزید فائدہ یہ ہوا کہ جو رابطہ تھا، وہ اور زیادہ وسیع ہو گیا۔لیکن ایسے کئی پروگرام تھے، ایک ہی پروگرام نہیں تھا۔ان کا ایک بہت ہی پاپولر (Popular) ریڈیو ہے، جس میں اسی طرح ٹیلیفون پر سوالات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔جو ریڈیو پروگرام چلاتے ہیں، وہ بھی وہاں کی بہت ہی معروف اور ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ان کا پروگرام لوگ بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔اس پروگرام میں بھی اللہ تعالیٰ نے موقع عطا فرمایا۔وہ بھی تقریباً پچاس منٹ تک جاری رہا اور ہر وضوع پر ہر قسم کے سوالات انہوں نے کئے۔بعد میں جو جائزہ لیا، ان کی رپورٹ یہ تھی کہ پرائم منسٹر بھی ایک پچھلے ہفتہ اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے، ان کے سننے والوں کی تعداد کم تھی اور اب یہ جو پروگرام ہوا ہے، اس میں تعداد زیادہ تھی۔تو مذہبی امور میں اگر دلچسپی نہ ہوتی کسی قوم کو تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مذہب سے دوری بھی سطحی ہے۔ورنہ اس کثرت کے ساتھ ایک ایسے پروگرام کو جس کا تعلق نہ ان کے مذہب سے ہے اور نہ ان کو کسی مذہب سے دلچسپی ہے، اس کثرت کے ساتھ اس پروگرام میں دلچپسی کا اظہار کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے۔اور ان کی طبیعت کی سعادت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ایسے پروگرام اور پریس کا توجہ دینا، یہ سب بتاتا ہے کہ وہاں کی جماعت اس عرصہ میں فعال رہی ہے اور اپنے بیرونی رابطے کو مضبوط تر کرتی رہی ہے۔ورنہ ایک ایسا شخص جو بالکل غیر متعارف ہو کہیں یا ایسی جماعت، جو غیر متعارف ہو، اس کے راہنما کو اس طرح خوش آمدید کہنا اور اتنے اہم پروگراموں میں اتنی نمایاں حیثیت دینا، یہ ممکن ہی نہیں ہے، جب تک کہ پہلے سے جماعت نے محنت نہ کی ہو۔پھر ان کی محنت کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ مجالس میں اس جگہ کی اہم ترین شخصیات آتی رہی ہیں۔وزراء بھی آئے اور مئیر ز بھی آئے اور سیاستدان اور دانشور، پروفیسر ہر قسم کے طبقہ کے لوگ شامل ہوتے رہے۔اور ان سے گفتگو کے دوران پتہ چلتا رہا کہ وہ خدا کے فضل سے پہلے سے ہی جماعت سے واقف ہیں۔فعال جماعت کا رابطہ اگر بیرونی دنیا سے ہو تو وہ اثر دکھاتا ہے اور رپورٹوں میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔جب آپ 418