تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 142
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اگست 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم تا کہ ہمیں یہ ووٹ نہ دینا پڑے کہ پاکستان ٹھیک کر رہا ہے۔بتائیے کون کون سی جہات ہیں، جن میں خدا نئی وسعتیں عطا نہیں کر رہا؟ بعض اسلامی ممالک سے میرا رابطہ ہوا ہے، اللہ کے فضل سے اور ان کے سر کردہ لوگوں نے وعدے کئے ہیں کہ ہم ان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں تمہاری مدد کریں گے اور واقعہ جماعت احمدیہ پر شدید ظلم ہوا ہے، اسلام کی صف اول کی مجاہد جماعت ہے اور اسے اسلام دشمن طاقت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، بڑی اندھیر نگری ہے۔تو ہر سمت میں خدا تعالیٰ ہماری زمینوں کو وسعتیں عطا فرما تا چلا جارہا ہے۔ایسی زبانوں میں اسلامی لٹریچر تیار کرنے کی توفیق ملی ہے اور بڑی جلدی اب انشاء اللہ بڑھ جائے گی ، جن میں کبھی کچھ نہیں تھا۔پہلی مرتبہ خدا کے فضل سے بالکل نئی زبانوں میں اسلامی لٹریچر اور بڑے بڑے وسیع علاقوں سے تعلق رکھنے والی وہ زبانیں ہیں، ان میں خدا تعالیٰ نے پیدا کرنے کی توفیق بخشی ہے۔چونکہ بیک وقت بہت سا کام شروع ہوا ہوا ہے اور پختگی کے قریب ہے۔اس وقت نظر نہیں آرہا کیونکہ پھل جب تک پکے نہ خواہ لاکھوں کی تعداد میں لگا ہو، مارکیٹ میں تو نظر نہیں آیا کرتا۔لیکن جب پک جائے گا تو اچانک ہر طرف ود وه آپ کو اس پھل کی خوشبو، اس کا رنگ روپ، اس کے مزے حاصل ہونے شروع ہو جائیں گے۔پریس کی تحریک کی گئی تھی۔ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز کی تحریک کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سواد و لاکھ تک کے وعدے آچکے ہیں اور ابھی بہت سے ممالک کی طرف سے آرہے ہیں۔اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ اڑھائی لاکھ سے تین لاکھ تک تو آسانی سے یہ وعدے پہنچ جائیں گے۔ڈیڑھ لاکھ کی ضرورت تھی بنیادی مشینری کے لئے لیکن اس کے علاوہ اس کی Installation، اس کے ماہرین کی تیاری اور پھر ماہانہ اخراجات کے لئے ہمیں بتایا گیا تھا کہ ایک بڑی رقم کی ضرورت پیش آئے گی۔تو اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا انتظام فرما دیا۔جوزائد رقم ہے، اس کو ہم اس طرح استعمال کریں گے کہ اس کی ماہانہ آمد اس پریس کے سارے اخراجات کے لئے انشاء اللہ کفیل ہو جائے گی۔کوئی حصہ ایسا نہیں ہے، جس طرف نظر جاتی ہو اور خدا نے وہاں نئی وسعتیں عطا نہ فرما دی ہوں۔مشرقی یورپ میں خدا نے تبلیغ کے نئے رستے کھول دیئے ہیں۔نئی نئی قوموں میں نئے رستے کھول رہا ہے۔چنانچہ ایک اشترا کی ملک سے ایک تاتاری پروفیسر نے بیعت کی ہے۔اور وہ بہت ہی مخلص ہیں اور بہت تعلیم یافتہ ، اپنی یونیورسٹی میں مذہبی امور کے وہ ایک سند سمجھے جاتے ہیں۔اور اتفاق سے بیعت کرنے سے پہلے ان کو یہ کام ملا تھا کہ مذاہب کے تعارف پر وہ ایک کتاب لکھیں۔چنانچہ انہوں نے ہمیں لکھا ہے کہ اب بتاؤ پھر کیا ہے اسلام اور احمدیت کیا ہے؟ اور جو کچھ کہو گے، وہی کچھ لکھا جائے گا۔حیرت 142