تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 141

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء کونوں میں شکار کو اکٹھا کر دیا کرتی تھی، جہاں سے آگے نکل بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا تھا۔پھر اچھے شکاری کی ضرورت نہیں ہے۔جس طرف بھی گولی چلتی تھی، کوئی نہ کوئی شکار اس کے نتیجہ میں پھڑک رہا ہوتا تھا۔ویسا ہی حال مسلمانوں کا کیا گیا۔مختلف قصبوں سے گھر گھیر کر ان پر ان کی زمین تنگ کرتے چلے گئے۔اور ہر جگہ جہاں ان کا قبضہ ہوا، وہاں سے انتہائی مظالم کے ساتھ مسلمانوں کو نکال کر دوسرے قصبوں میں دھکیلا گیا۔یہاں تک کہ جب وہ گھیر الکمل ہو گیا اور سمندر کی لہروں کے سوا اور کوئی چیز ان کی نجات کے طور پر نہ رہی ، اس وقت انہوں نے ان کے ساتھ یہ دھوکا کیا کہ جولڑنے والے بیرونی سپاہی تھے، ان سے تو یہ کہا کہ ہم تمہیں جان کی امان دیتے ہیں، یہ جہاز لو اور یہاں سے رخصت ہو جاؤ۔اور جو بقیہ ان کی قوموں کے نو مسلم لوگ تھے ، ان کو قتل وغارت کے ذریعہ بہیمانہ طریق پر اس طرح ختم کیا گیا کہ ایک بھی اسلام کا نام لینے والا نہیں رہا۔ہزارہا مساجد یا ان کے کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ان میں سے کچھ گر جوں بلکہ بیشتر گرجوں میں تبدیل ہو گئیں۔اس کے باوجود آج تک مسلمانوں کی سینکڑوں مساجد پھیلی پڑی ہیں۔سینکڑوں قلعے پھیلے پڑے ہیں، جوخالی اور ویران ہیں اور کھنڈروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔غرناطہ کے قلعہ کی سیر کی جائے، جس کا نام الحمراء ہے تو ایک ایک قدم پر دکھ ہوتا ہے۔اس طرح وہ پرانی یادوں سے بھرا پڑا ہے کہ وحشت ہونے لگتی ہے، اسے دیکھ کر۔ایک طرف اس میں بے پناہ حسن ہے، جو نظر کوکھینچتا ہے اور دل کو جذب کرتا ہے۔دوسری طرف اتنا دکھ اور درد ہے کہ اس سے انسان کا انگ انگ دکھنے لگتا ہے۔صنعت کاری کے حیرت انگیز نمونے ہیں۔اتنا عظیم الشان قلعہ ہے اور اتنی حیرت انگیز محنت کے ساتھ ایسی باریک نظر سے صنعت کاری کی گئی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ان لوگوں کو جرات کیسے ہوئی کہ اتنے باریک کام کو ہاتھ میں لیں اور اتنے عظیم الشان قلعے کی دیواروں کو ہر طرف سے ان عبارتوں سے سجادیں۔باریک ہاتھ سے لکھی ہوئی عبارتیں ہیں، جو کلیۃ اللہ کے نام پر بنی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات پر مبنی ہیں۔کوئی اور ذکر وہاں نہیں ملتا، سوائے اس کے کہ وہاں بعض بادشاہوں کا نام ملتا ہے کہ ان کے زمانہ میں یہ لکھا گیا۔القدرة الله العزة لله قلعہ کی دیواروں کے چاروں طرف ارب ہا ارب دفعہ پتھروں میں باریک ہاتھوں سے یہ کھدائی کی گئی ہے۔اور ایسے خوبصورت رنگ جمائے گئے ہیں کہ آج تک امتدادزمانہ کے باوجود مئے نہیں۔وہاں مسلمانوں کے لئے دکھ کی یادیں ہیں اور اہل سپین کے لئے یہ خطرات کہ یہ یادیں کہیں دوبارہ عالم اسلام کو اس طرح نہ کھینچیں کہ یہ ہم سے انتقام لیں اور دوبارہ ہمیں فتح کرنے کے منصوبے بنائیں۔141