تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 142

خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم پس جہاں وہ یادیں ایک طرف مسلمانوں کو کھینچتی ہیں، وہاں مسلمانوں کو رد کرنے کے لئے ایک مقابلا نہ لہر بھی اہل سپین کے دل میں پیدا کر رہی ہیں، خوف پیدا کر رہی ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کیوں آتے ہیں؟ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ سپین کو دوبارہ فتح کرنے کا منصوبہ بنا کر اہل اسلام چلے آئیں۔ایک یہ پس منظر اور ایک اور پس منظر یہ ہے کہ سپین عیسائی دنیا میں سب سے زیادہ متعصب فرقہ سے تعلق رکھنے والا ملک ہے۔رومن کیتھولک عیسائی فرقہ نہایت متعصب فرقوں میں شمار ہوتا ہے۔یعنی ویسے تو رومن کیتھولکس سب سے زیادہ اور آرتھوڈوکس عیسائی ہیں۔لیکن سپین کے رومن کیتھولک پر بعینہ وہ مثال صادق آتی ہے کہ کریلا اور نیم چڑھا۔پین وہ ملک ہے، جہاں مذہبی تعصب نے اتنی شدت اختیار کی کہ دنیا میں سب سے زیادہ مذہب کے نام پر جہاں مظالم توڑے گئے ہیں ، وہ ملک پین ہے۔Inquisition کی انسٹی ٹیوشن یعنی مذاہب کی بناء پر مظالم توڑنے کا کارخانہ قائم کرنا، یہ پین کی ایجاد ہے۔اور پہین کی یہ ایجاد غیر مذاہب کے لیے نہیں تھی خود عیسائیوں کے لئے تھی۔یعنی مذہب میں ان کی شدت کا اندازہ کریں اور سخت دلی کے حال کا اندازہ کریں کہ جن یہود کو وہ ظالم کہا کرتے تھے، ان سے اپنے مظالم میں کئی گنا زیادہ بڑھ گئے۔یہود نے تو ایک صلیب دی تھی، یہاں روزانہ ہزاروں صلیبیں اور اس سے بڑھ کر تکلیفیں دی جاتی تھیں۔یہاں تک کیفیت تھی کہ جب میں انگلینڈ میں پڑھا کرتا تھا، ہم نے مادام توسو میں سپین کی Inquisition کے وہ آلات دیکھے، جن کے ذریعہ عیسائیوں کو دکھ دیا کرتے تھے۔اس جرم میں کہ انہوں نے مذہب کے خلاف یا کسی پادری کے خلاف یا کسی ظالم بشپ کے خلاف اظہار رائے کیا ہے۔ایسے ایسے خوفناک آلے ایجاد ہو گئے تھے کہ ان آلوں کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کئی عورتیں اور بچے ، جود دیکھتے تھے، ان کی چیخیں نکل جاتی تھیں، ان کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی تھی۔اتنا زور پڑا، اس ادارے پر، جس نے وہ آلے رکھے ہوئے تھے کہ آخر وہ آئے ان کو وہاں سے اٹھانے پڑے۔اوپر بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے تھے کہ کمزور دل عورتیں اور بچے وہاں نہ جائیں۔وہ اس قسم کے خوفناک آئے تھے۔وہ تو لمبی کہانی ہے۔مثلاً آنکڑے کا پہیہ ہوتا تھا ، جس طرح ہمارے ہاں پرانے زمانے میں کنوؤں میں سے پانی نکالنے کا انتظام ہوتا تھا، ٹنڈیں لگی ہوئی ہوتی تھیں، اس طرح اس کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوتے تھے، ان کے اوپر انسان کو الٹا کر کے کس دیا جاتا تھا۔اور اس کو آہستہ آہستہ اس طرح گھماتے تھے کہ وہ جب دائیں یا بائیں یا نیچے جاتے تھے تو سارا بوجھ اس آنکڑے کا جلد پر آجاتا تھا۔وہ اور اندر گھتے تھے اور زخمی جسم کو اور تکلیف پہنچاتے تھے۔اور و مسلسل اس حالت میں وہ چکر دیتے چلے جاتے تھے۔اور اگر وہ دیکھتے تھے کہ غنودگی آگئی ہے، بے ہوشی طاری ہونے لگی ہے تو 142