تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 88
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک چنانچہ اول یہ کہ یک طرفہ پراپیگنڈا اسلام میں منع ہے۔خصوصا قرآن کریم کی تعلیم کے لحاظ سے۔خواہ وہ کسی امیر کے بارہ میں ہو، عہدیدار کے بارہ میں یا عام احمدی کے بارہ میں۔یہ بہت سختی سے منع ہے۔اور اگر نظام کے کسی نمائندے کے بارہ میں ہے تو پھر یہ دگنا خطرناک ہے۔کیونکہ یہ احمدیوں کے اخلاص پر حملہ کرتا ہے اور اس پر برا اثر ڈالتا ہے۔اور وہ اس پراپیگنڈے کے زیر اثر سست ہو جاتے ہیں۔وہ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ درست بھی ہوں تو انتقام لینا چاہتے ہیں۔جماعت سے انتقام اور جماعت کی روح سے انتقام، یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔احمدیت کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ایسے تمام افراد کو اللہ تعالیٰ نے نکال باہر کیا۔اس کا خیال رکھے بغیر کہ وہ ابتدا درست تھے یا غلط؟ مگر جو طریق انہوں نے اختیار کیا، وہ یقینا غلط اور تکلیف دہ تھا۔اور انہیں یہ طریق اختیار کرنے کی سزا ملی۔لیکن اگر آپ بالا نظام سے شکایت کریں اور سب سے بالا و برتر ہستی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔پ اس پر ایمان کیوں نہیں رکھتے ؟ اگر وہ زندہ اللہ ہے، اگر وہ حقیقت کبری ہے ، تب وہی آخری اور حتمی طاقت ہے۔اگر وہ حقیقت نہیں، اگر وہ صرف تصوراتی اور خیالی چیز ہے، تب اس نظام کو چھوڑ دیں۔ایسی احمقانہ تنظیم میں شامل ہونے کا کیا فائدہ، جس کے پاس کچھ بھی نہیں اور وہ خیالی کہانیاں بن رہی ہے؟ چنانچہ اس سوال کا یہ سادہ سا جواب ہے۔خواہ مخواہ اس جماعت سے چھٹے رہنے کی بجائے آپ کو السلام علیکم کہ کر انہیں تنہا چھوڑ دینا چاہئے۔لیکن ہر مذہبی عقیدہ کی بنیاد کے مطابق اگر اللہ کی ذات ہے، جو سنتا ہے اور انسانی معاملات میں دلچسپی لیتا ہے تو پھر آپ کو اپنی فریاد بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنی ہے۔حتی کہ اگر خلیفہ بھی آپ کی شکایت کی طرف توجہ نہ دے اور آپ کی سوچ سے متفق نہ ہو اور آپ اصرار کریں کہ وہ غلط طور پر انتظامیہ کی طرفداری کر رہا ہے تو جیسا کہ میں نے بتایا اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آخری ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے بالمقابل خلیفہ کی حیثیت ہی کیا ہے؟ اس کے بالمقابل تو وہ زمین پر ایک ذرہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔اللہ اگر چاہے تو اس کے ایک حکم سے وہ ختم ہو سکتا ہے۔چنانچہ جب آپ کے پاس طاقتور ترین عدالت کا راستہ کھلا ہے تو اس کو چھوڑ کر عوام کی طرف رجوع کرنا اور ان کی توجہ مبذول کروانا، بتوں کی پوجا نہیں تو پھر کیا ہے؟ یہ بت پرستی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اللہ کی حکمت بالغہ پر ایمان نہیں رکھتے۔آپ ایک گویے کی طرح کچھ گیتوں کی پیروی کر رہے ہیں اور بس۔چنانچہ اس رویہ سے احتیاط کریں۔اگر آپ اس پس منظر میں درست رویہ رکھیں گے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے گا۔آپ ایک بہترین معاشرے کی بنیادرکھنے والے ہوں گے۔جو پھیلتا اور وسعت پذیر ہوتا رہے گا، جو ہر سمت سے طاقت حاصل کرے گا۔اور کوئی بھی اس قسم کے معاشرہ کو ختم کرنے کے قابل نہیں ہو گا“۔88