تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 89
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اکتوبر 1982ء و مالی معاملات میں گڑ بڑ روکنے کے بارہ میں، میں نے بڑی تفصیل سے اس لئے وضاحت کی ہے کہ کوئی معاشرہ عدل کے بغیر ترقی کر ہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن ہے۔وہ تخریب کا شکار ہو جائے گا اور کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔چنانچہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اسلامی ثقافت اور اسلامی معاشرہ کو دنیا داری کی طرف جھکا دیں گی۔ایسا معاشرہ، بیمار معاشرہ ہوگا“۔چنانچہ احمدی معاشرے میں صحت مند رجحان قائم کریں۔تب انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ آپ اپنے عظیم الشان مقاصد کو تیز رفتاری سے جلد حاصل کرنے والے ہوں گے۔اس کے لئے میرے ذہن میں یہاں ایک کمیشن بنانے کا خیال ہے۔اور اس کے لئے میں نے بعض نام سوچ لئے ہیں۔میں اعلان کرتا ہوں کہ میرے جانے سے قبل مالی بد معاملگی کے بارہ میں انگلستان میں رہنے والوں اور جو انگلستان سے جاچکے ہیں اور یا تو ان پر ان بد معاملکیوں یا بے ایمانی کا الزام ہے اور یا انہوں نے انگلستان میں رہنے والے لوگوں پر ایسے الزامات لگائے ہیں، تحقیق کے لئے ایک کمیشن تشکیل پا جائے گا۔جو بھی ہو، یہ کمیشن تمام شکایات اور پورٹس مجھے بھجوائے گا کہ کیا طریق اختیار کیا جائے؟ اسی طرح شادیوں کے بندھن ٹوٹ جانے کے بارہ میں بھی ایسی رپورٹس ملی ہیں، جو خاوند کے بیوی سے غلط رویہ یا بیوی کی خاوند سے بدسلوکی کے نتیجہ میں نا کام ہو گئی ہیں۔جب ہم دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ گھر کے بارہ میں اسلام کی تعلیمات بہترین ہیں، جن کی پیروی کرنا چاہئے اور اسی وقت ہم اپنے عمل سے اپنی بات کو رد کر دیتے ہیں تو یہ اسلام سے نا انصافی ہے۔تو یہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔اس کے لئے میں قضا بورڈ سے درخواست کرتا ہوں کہ ایسے تمام کیسز، جو ابھی تک حل نہیں ہوئے ، انہیں جلد حل کروائیں۔چنانچہ ایک دفعہ جب قضا کوئی فیصلہ کرے تو پھر اس میں لیت ولعل نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ اگر آپ کے فیصلہ پر عملدرآمد میں دیر ہو جائے تو پھر انصاف کے تمام تقاضے ختم ہو جاتے ہیں۔فیصلہ پر عملدرآمد کروانے والوں کا کام نہیں کہ کسی فریق سے رحم اور ہمدردی کا سلوک کریں۔وہ قاضی کے فیصلہ پر قاضی نہیں ہیں۔اگر وہ غلط ہے اور آپ کو یقین ہے کہ وہ غلط ہے ، تب بھی آپ کا فرض ہے کہ اس پر عملدرآمد کروائیں۔کیونکہ غلط فیصلہ کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہوگی ، آپ کے کندھوں پر نہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں گے، آپ کو نہیں۔چنانچہ فیصلوں پر فوری عمل کروانا چاہئے۔اور میں اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ عملدرآمد کو جانتے بوجھتے ہوئے یا ویسے ہی لڑکا یا جا رہا ہو۔البتہ انہیں جماعتی روایات کے مطابق اپیل کا حق ضرور ملنا چاہئے۔اگر کسی کو بالا بورڈ کے پاس اپیل کرنے کا اختیار ہے تو پھر 89