تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 87

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 108اکتوبر 1982ء المسیح کے رشتہ کا تعلق ہے، کوئی احمدی جتنے خطوط چاہے، خلیفة المسیح کی خدمت میں لکھ سکتا ہے۔اس بارہ میں کوئی روک نہیں۔لیکن اگر آپ کسی اور شخص کے منفی رویہ کے بارہ میں اطلاع دے رہے ہیں تو پھر اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ آپ کا فرض ہے کہ اس شخص کو بھی مطلع کریں۔ورنہ یہ غیبت شمار ہوگی۔اور ایسا کرنا، کسی کے علم میں لائے بغیر اس پر کیچڑ اچھالنے کے مترادف ہوگا ہے۔اس وجہ سے یہ طریق اختیار کیا گیا ہے، ورنہ جماعت احمدیہ اور خلیفة المسیح کے درمیان کوئی حائل نہیں ہو سکتا۔یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔کسی کے لئے بھی اس میں دخل دینا اور راستہ روکنا ممکن نہیں۔اس سے مجھے یہ خیال بھی آیا کہ اگر کوئی بد سلوکی اختیار کرتا ہے تو وہ خلیفة المسیح اور جماعت کے درمیان حائل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ بعض لوگ جب مقامی عہدیداروں سے ناراض ہو جائیں تو وہ اس کے اور نظام کے درمیان تمیز نہیں کر سکتے۔اور بعض لوگوں کو یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ براہ راست خلیفة المسیح کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کر سکیں۔چنانچہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جماعتی کمزوری ہے اور وہ پھر خلافت سے بھی ناطہ تو ڑ لیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا یہ لوگ خلیفۃ المسیح اور احمدی لوگوں کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں، جس کا انہیں کوئی حق نہیں۔چنانچہ اگر یہ مسئلہ سر اٹھائے تو اس کا حل یہ ہے کہ آپ خلیفة المسیح سے یا اس شعبہ سے براہ راست رابطہ کریں۔مثلاً اگر مالی معاملہ ہے تو وکیل المال کو تحریر کرنا چاہئے۔تبشیر کا مسئلہ ہوتو وکالت تبشیر سے رابطہ کریں۔لیکن اگر اس پر آپ کو تسلی نہ ہو اور ہو بھی آپ کو جلدی تو کم از کم یہ تو کریں کہ آپ مجھے خلیفۃ المسیح کی حیثیت میں لکھیں اور اس کی نقل امیر کو بھجوادیں۔ورنہ عمومی طریق یہی ہے کہ آپ اپنی شکایات امیر یا متعلقہ عہدیدار کے توسط سے جو بھی وہ ہیں، بھجوائیں۔اور بہتر یہ ہوگا کہ ایک نقل براہ راست بھجوا دیں۔تو پھر بالکل کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔لیکن ایک بات میں واضح کر دوں کہ دنیا کے معاملات میں بھی اپیل نیچے سے اوپر کی طرف حرکت کرتی ہے۔اوپر سے نیچے کی طرف نہیں۔وہ احمدی، جو اپنی اپیل عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں ، وہ غلطی کے موجب ہوتے ہیں۔وہ اپنے لیے تباہی کا راستہ چنتے ہیں۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرنے کی بجائے عوام کا رخ کرتے ہیں۔جبکہ کوئی مذہب عوام سے نہیں پھوٹتا بلکہ مذہب خدا کی طرف سے اترتا ہے۔چنانچہ اگر آپ اپنی شکایات غلط جگہ پیش کرتے ہیں تو آپ نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اس یک طرفہ پراپیگنڈا کا دوسری پارٹی کو دفاع کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔بعض اوقات انہیں اس بات کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا کہا جا رہا ہے؟۔87