تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 941 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 941

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 09 نومبر 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جھوٹے ہو گئے، جو خدا کی باتیں اور رسول کی باتیں کرتے ہیں۔جنہوں نے ہمیں اللہ کی محبت سکھائی، جنہوں نے ہمیں نماز ، روزہ بتایا اور تم ہمیں آکر ان کے خلاف گالیاں دے کر ان سے بدظن کرنا چاہتے ہو۔تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔بعض گاؤں والوں نے ان سے کہا: یہ ہند و علاقہ تھا، جب ہندو ہمیں ہندو بنا تھے، جب ہماری تہذیب تباہ ہورہی تھی، اس وقت تمہارا اسلام کہاں سویا ہوا تھا؟ تمہیں کوئی خیال نہیں آیا کہ علاقوں کے علاقے ایسے پڑے ہوئے ہیں ہندوستان میں، جہاں ہندو کلچر مسلمانوں کو تباہ کر رہا ہے۔اور دن بدن ان کو اسلام سے متنفر کر کے خاموشی کے ساتھ ہندو ازم کی طرف واپس لے جا رہا ہے۔اس وقت تمہارے کانوں پر جوں نہیں رینگی۔اور اب جبکہ احمدی یہاں پہنچے ہیں، ہمیں اسلام سکھانے کے لئے اور ان سے مقابلہ سکھانے کے لئے غیروں سے تو اب تم آگئے ہو کہ ان کو چھوڑ دو۔رہے۔افریقہ میں جو صد سالہ سکیم تھی، اس کے تابع ہم نے بعض ممالک کے سپردہ، بعض ممالک کئے تھے، جہاں کوئی بھی احمدی نہ تھا۔اور یہ فیصلہ تھا کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ہر ملک سو سالہ جو بلی کے تحفے کے طور پر دو یا تین ملک ایسے خدا کے حضور پیش کرے، جہاں پہلے احمدیت نہیں ہے۔چنانچہ افریقہ کے ایک ملک کے متعلق پہلے بھی اچھی خبر آئی تھی ، اب کل پھر اطلاع ملی ہے، غانا کے سپر د کیا گیا تھا کہ خدا کے فضل سے وہاں دیہات کے دیہات احمدی ہوئے ہیں۔اور اب ان کی طرف سے مطالبہ آیا ہے کہ فوراً آکر ہمارے اندر جماعتیں قائم کرو، ہمیں نظام سکھاؤ۔اور اللہ کے فضل سے رجحان ایسا تیزی سے پھیل رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں : ہمیں فوری طور پر وہاں مبلغ مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔چنانچہ ان کو میں نے لکھا ہے: آپ خود جا ئیں تنظیم قائم کریں اور آگے پھر اس کو سنبھالیں تو خدا کی دین ہے، وہ تو نہیں رکتی۔جتنا یہ روک رہے ہیں، اتنا ہی خدا کھولتا چلا جارہا ہے، ہماری راہیں۔جتنا یہ ہمارے رزق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اتنا ہی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چندوں میں برکت ڈالتا چلا جارہا ہے۔ے جتنا یہ گندی گالیاں ہمیں دیتے ہیں، اتنا ہی اللہ تعالیٰ ہمیں روحانی وجود بناتا چلا جارہا ہے۔جتنا یہ متنفر کرتے ہیں، ہمارے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے، اتنا ہی زیادہ عشق بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اسی کثرت سے احمدی درود بھیج رہا ہے۔جتنا یہ مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے ہیں، اتنا زیادہ احمدیوں میں حضرت مسیح موعود کی محبت موجیں ماررہی ہے۔یہ دو الگ الگ واقعات رونما ہور ہے ہیں۔ایک مغضوب علیہم اور ضالین کی راہ ہے، جو پہچانی جاتی ہے۔اور ایک وہ راہ ہے، جن پر خدا نے انعام فرمایا اور وہ بھی پہچانی جاتی ہے۔941