تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 942
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 نومبر 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک چنانچہ وہ کام جو ہماری تربیتی تنظیمیں کبھی بھی نہیں کر سکتی تھیں، وہ کام خود بخود خدا کی تقدیر ظاہر فرما رہی ہے۔اس کثرت سے اطلاعیں ملتی ہیں، ایسے احمدیوں کی ، جو یا تقریباً بے دین خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی وجہ سے تھے یا بے تعلق تھے یا نمازوں میں ست تھے۔کوئی دین کی محبت ان میں نہیں تھی یا چندے ادا نہیں کرتے تھے۔ان کی چٹھیاں پڑھتا ہوں میں تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ خدا کی حمد سے دل کس طرح بھر جاتا ہے۔اور کس طرح آنکھیں اللہ کے حضور شکر کے آنسو بہاتی ہیں۔ٹھیک ہے، بہت گند بکنے والے لوگ ہیں ، اس دنیا میں۔ٹھیک ہے، بہت دکھ دیئے ہیں۔لیکن ان انعامات کو بھی دیکھیں کہ اس کے مقابل پر آپ سے خدا کیا سلوک کر رہا ہے۔پس پاکستان کے احمدیوں کو خصوصا میں توجہ دلاتا ہوں کہ خدا کی پیاری نگاہوں کو دیکھنا شروع کر دیا کریں، جب یہ دکھوں اور مصیبتوں کے انبار آپ پر پھینکتے ہیں۔ایک ہی علاج ہے اور اس علاج کے سوا کوئی علاج نہیں ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ کے لطفوں کو یاد کیا کریں۔اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کیا کریں۔خدا کے کرم جو بارش کی طرح برس رہے ہیں، ان کو دیکھا کریں۔چنانچہ میں آپ کو ایک بچے کا مثال کے طور پر میں نے بعض خط چنے ہیں، ایک نوجوان کا خط میں آپ کو بتاتا ہوں۔یہ ایک مثال نہیں ہے، ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں اور ہزار ہا اور ایسی مثالیں ہیں۔لیکن ہر نوع کے احمدیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک پاک تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔ایک صاحب لکھتے ہیں، غیر ملک سے یعنی پاکستان کے باہر کسی ملک سے کہ میں گزشتہ چھ سال احمدیت سے کافی دور چلا گیا تھا۔نہ نماز نہ روزہ۔لیکن اس آرڈینینس کے بعد خدا کے فضل اور بزرگوں کی دعاؤں سے واپس کھنچا چلا آیا ہوں۔میں نے خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی توبہ کی اور نمازیں اور روزے شروع کئے اور ہر نماز میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے دوبارہ مجھے نیکی کی توفیق عطا فرمائی۔گویا کہ یہ آرڈینینس میرے لئے تو بڑا ہی بابرکت ثابت ہوا۔اور اس وقت آپ کے یہ الفاظ میرے کان میں گونج رہے ہیں کہ اگر مسلمان کو آگ میں ڈالا جائے تو وہ کندن بن کر نکلتا ہے۔اس تبدیلی کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ آرڈینینس کے معابعد میں نے اپنے والدین، جو کہ پاکستان میں ہیں، ان کو خط لکھا کہ آپ لوگ اپنے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی مجھے بھیجیں تا کہ میں آپ کا ویزہ بھیج کر آپ لوگوں کو یہاں بلوالوں۔اس خط کا جواب اس طرح آیا، اگر بیٹا تم نے سیر کی غرض سے بلوایا ہوتا تو ہم ضرور آتے لیکن تم حالات سے ڈر کر ہمیں بلوار ہے ہو تو یہ ذہن سے نکال دو کہ ہم ڈر کی وجہ سے آجائیں گے۔ہم تو شہید ہونے کے لئے بے چینی سے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔وہ بچہ لکھتا ہے کہ خط مجھ پر بجلی بن کر گرا اور اس کے بعد پھر 942