تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 940 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 940

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 نومبر 1984ء * تحریک جدید - ایک الہی تحریک (80) آدمی قریب بلائے ہوئے تھے، اڑھائی گھٹے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تبلیغ کا موقع ملا اور کثرت سے پہلے کئی دن دعائیں کرتے رہے کہ اے اللہ! ہمیں تو علم نہیں ہے، تو ہمیں روشنی عطا فرما، حکمت عطا فرما، ہماری زبان کھول۔سلمی سعید لکھتی ہیں کہ میں حیران ہو گئی تھی کہ مجھے جواب کیسے آرہے ہیں اور کس طرح میری زبان چل رہی ہے، خود بخود یہاں تک کہ اس کثرت سے فون آنے شروع ہوئے کہ اب ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ تمہارا اسلام سچا ہے اور باقی سب جو قصے ہیں، فرضی باتیں ہیں۔بعض لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو نفرت تھی۔اسلام کے نام سے۔یہ جو ملا ازم اسلام پیش کر رہا ہے، جس قسم کے تنگ نظر وہ اسلام کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہیں، جس قسم کا تمہارے رسول کا تصور انہوں نے بنایا ہوا ہے، انہوں نے بتایا سلمی سعید کو کہ ہم تو دن بدن نفرتوں سے بھر رہے تھے۔آج ہمارے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہوگئی ہے۔بعضوں نے دعا کے لئے کہا کہ دعا کرو، اب ہمیں اللہ جلد ہدایت نصیب کرے۔ایک لڑکی ، جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اس نے کہا کہ میں نے ابھی بیعت کرنی ہے۔جو ساتھ لے کر آئی ہوئی تھی، اس نے کہا کہ بی بی ابھی بیعت نہ کرو، کچھ اور سوچ لو۔ابھی تو تم نئی ہو۔اس نے کہا: تمہیں نہیں پتہ کیا بات ہے۔میں نے چند دن ہوئے ایک خواب دیکھی اور اس خواب میں ایک موسیٰ کا ذکر تھا اور ایک کفن کا ذکر تھا۔اعصائے موسیٰ اور اس کا جیت جانا۔اور ایک کفن کا ذکر تھا، جو مسیح کا کفن تھا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ خواب کیا ہے؟ جب یہ سلمی سعید سوال کا جواب دے رہی تھیں تو جو الفاظ ان کے منہ سے نکلے بعینہ وہی خواب میں مجھے بتائے گئے تھے۔اور کفن کا جوذ کر انہوں نے کیا ہے، وہی ذکر خواب میں چل رہا تھا۔تو اب تو میں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی۔چنانچہ وہاں سے واپس جا کر گھر پھر انہوں نے فون کیا ، انہوں نے کہا: میں بے قرار ہو گئی ہوں، مجھ سے ابھی بیعت لو۔چنانچہ انہوں نے پھر بلایا اور بیعت ان کی لی۔اور اب خدا کے فضل سے وہ بیعت مجھے رات ہی بھجوا دی گئی۔- جرمنی میں خدا کے فضل سے ستر سے اوپر احمدی ہو چکے ہیں۔اللہ کے فضل سے جو تازہ اطلاع ملی ہے اور رحجان بڑھ رہا ہے، تیزی سے۔ہندوستان میں جیسا کہ میں نے بیان کیا، گاؤں کے گاؤں بعض علاقوں میں احمدی ہورہے ہیں۔کل ایک خط آیا ہے کہ وہاں جب احمدیت کے پھیلنے کی خبریں ملیں تو دور دراز سے بڑے بڑے علماء پہنچے، نفرتیں پھیلانے کے لئے پہنچے۔اور ان لوگوں کو علماء کو گاؤں والوں نے نکال دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تمہارا اسلام نہیں چاہئے۔تم نفرتیں لے کر آئے ہو، تم گالیاں لے کر آئے ہو۔انہوں نے تو ہمیں زندہ کر دیا ہے، انہوں نے تو ہمیں خدا کا پیار عطا کیا ہے۔تم کیا باتیں کرتے ہو۔یہ کس طرح 940