تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 85
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08اکتوبر 1982ء مقرر فرمودہ ہے۔انہوں نے ہر احمدی کی بیعت نہیں کی ، صرف خلیفة المسیح کی بیعت کی ہے۔چنانچہ ہر امر اس کے ہاتھ سے نکلتا ہے اور احمدی اس کی اس لئے پیروی کرتے ہیں کہ وہ ان کے ایمان کا حصہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، ان کی اطاعت بالآخر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، نہ کہ کسی انسان کی۔چنانچہ انہیں خلیفة المسیح نے ذمہ داری سونپی ہے۔اس لئے انہیں اس طاقت کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے۔میں ایسے امیر کو نا پسند کرتا ہوں، جو لوگوں پر شفقت نہ کرے۔کیونکہ جماعت کا خلیفہ سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے، اس سے ان کا ذاتی تعلق ہوتا ہے اور دراصل خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے علاوہ اس کے پیچھے کوئی اور مقصد نہیں۔مگر وہ امیر کی اطاعت اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ اس کا تقرر خلیفة المسیح نے فرمایا ہے۔وہ تمام نظام کی اطاعت اسی لئے کرتے ہیں کہ یہ نظام خلیفة المسیح کا قائم فرمودہ ہے۔انہوں نے ہر احمدی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی بلکہ صرف خلیفة المسیح کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔چنانچہ ہر چیز اسی کے ہاتھ پر مرتکز ہوتی ہے اور وہیں سے پھوٹتی ہے۔اور احمدی اس کی پیروی کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کے ایمان کا حصہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا: دراصل وہ کسی ایک انسان کی پیروی کی بجائے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہوتے ہیں۔چونکہ خلیفۃ المسیح نے انہیں بعض اختیارات تفویض کئے ہیں، اس لئے انہیں ان مفوضہ اختیارات کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے۔میں کسی ایسے امیر کو جولوگوں کا ہمدرد نہیں ہے، مقرر کرنا بالکل پسند نہیں کرتا۔کیونکہ خلیفہ کا سب احمدیوں سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور انہیں اس لئے اس کی اطاعت کے لئے نہیں کہا جاتا کہ وہ اس سے کمتر ہیں۔بلکہ صرف نظم وضبط قائم رکھنے کے لئے اطاعت کے لیے کہا جاتا ہے، نہ کہ کسی اور وجہ سے۔مگر نظم وضبط کا مطلب سختی اور غیر ہمدردانہ رویہ نہیں ہے۔میں خود کو کسی ایسے امیر کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں سمجھتا، جو احمدیوں سے اس قسم کا رویہ اختیار نہیں کرتا، جو مجھے پسند ہے۔چنانچہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی مشنری انچارج، کوئی صدر اپنی طاقت کا غلط استعمال کرے۔کیونکہ اگر وہ ان احمدیوں کو، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ان کی اطاعت کرتے ہیں، تکلیف دیں گے تو دراصل وہ مجھے تکلیف پہنچائیں گے اور وہ اللہ کے راستہ سے بھٹک جائیں گے۔یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔آپ کو اس اعتماد پر، جو آپ پر کیا گیا ہے، پورا اترنا چاہئے۔اور اس طرح سلوک کرنا چاہئے ، جیسا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ سے تھا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اس دنیا میں کسی شخصیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔دنیا میں آپ سے بڑھ کر کسی اور کے 85