تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 84

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اسی صورت حال کا ایک اور پہلو بھی ہے۔جب کوئی شخص نماز کی امامت کروارہا ہو۔بعض لوگ متنجس ہوتے ہیں اور لوگوں کے بارہ میں ایسی معلومات رکھتے ہیں، جو باقی جماعت کو معلوم نہیں ہوتیں۔نتیجہ وہ ایک قاضی کی طرح بعض دوسرے احمدیوں کے بارہ میں فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے، وہ برائیوں کا شکار ہے۔خواہ ان کے پاس کافی ثبوت ہو یا نہ ہو۔خواہ وہ اس الزام کے ثبوت میں اسلامی قوانین کے مطابق تسلی بخش شہادت پیش نہ کر سکیں ، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔وہ صرف ایک ہی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ ہمیں علم ہے کہ فلاں فلاں شخص برائیوں کا شکار ہے۔چنانچہ اسے کوئی عہدہ نہیں ملنا چاہئے۔خصوصاً اس کے امام الصلوۃ ہونے کے بارہ میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔یہ سوالات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اٹھائے گئے تھے اور ان کا قیامت تک کے لئے فیصلہ فرما دیا گیا۔دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص بدکار ہو، نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہو، بد تہذیب ہو اور نہایت برے کردار کا شخص ہو، اگر وہ امام الصلواۃ مقرر ہو جائے اور بعض لوگوں کی نظر میں اس کا امام ہونا کھٹکتا ہے کہ متقی لوگ اس قسم کے شخص کی پیروی میں نماز با جماعت کے لئے کھڑے ہوں تو اس قسم کے امام الصلوۃ مقرر ہونے کی صورت میں متبعین کو کیا کرنا چاہئے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی پیروی کرو۔اللہ تعالیٰ ہی نمازیں قبول فرمائے گا۔کیونکہ نمازیں امام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔(سنن ابی داود کتاب الصلوۃ باب امامة البر والفاجر ) کیا ہی حسین تعلیم ہے۔اور یہ کتنی خوبصورت اور سلامتی والی ہے۔اسی وجہ سے اس کا نام اسلام ہے۔اس کا مطلب ہے، سلامتی۔اس سے امن پھیلتا ہے۔یہ سلامتی لاتی ہے اور سلامتی کا پیغام دیتی ہے۔اسلام میں کوئی تفرقہ قابل قبول نہیں۔چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی اس روح کے ساتھ آپ اپنے امیر اور دیگر عہدیداران کی پیروی کریں۔اس بات سے قطع نظر کہ آپ انہیں متقی سمجھتے ہیں یا نہیں؟ یہ آپ کا کام نہیں کہ اس بارہ میں کوئی رائے دیں۔یہ بعد الموت اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اب میں امراء کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ان کے بھی کچھ فرائض ہیں ، عہدیداران کے اپنے کچھ فرائض ہیں۔ان کا ان لوگوں سے شفقت کا سلوک ہونا چاہئے ، جن پر وہ نظام کو چلانے کے لئے مقرر ہوئے ہیں۔لوگوں کو امیر کی اطاعت اس کی ذاتی استعداد کی بجائے محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کرنی چاہئے۔اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے اور اس لئے کہ انہیں خلیفة المسیح نے مقرر فرمایا ہے۔کسی اور وجہ سے نہیں۔وہ تمام نظام کی اس لئے پیروی کریں کہ یہ نظام خلیفة المسیح کا 84