تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 86

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اختیارات کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ آپ اللہ تعالی کی نمائندگی میں مبعوث ہوئے تھے۔اور آپ کی طرح کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کی اس رنگ میں نمائندگی کا دعویٰ نہیں کیا۔اس لئے اگر بعض افراد اسلامی نظام پر معترض ہوتے ہوئے ، اسے آمریت سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔کرہ ارض پر کوئی شخص دنیوی اصطلاح کی رو سے کوئی ایسی آمرانہ حیثیت یا آمریت کا دعوی نہیں کر سکتا ، جس قسم کا روحانی اقتدار اعلیٰ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے بعد من جانب اللہ عطا ہوا۔جہاں تک دنیوی آمریت کا تعلق ہے، اس کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔اسلام کی رو سے کسی مقتدر ہستی کی جتنی زیادہ طاقت یا قوت بڑھتی جائے گی ، اتنا زیادہ مقام خوف بڑھتا جائے گا۔کیونکہ بالآخر سب اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہیں۔نتیجةً طاقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خوف بہت بڑھ جاتا ہے۔چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طاقت کو نہایت عاجزانہ طور پر استعمال فرمایا۔اور اتنے خوبصورت اور عمدہ انداز سے کہ آپ کی تمام زندگی پر کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکتا کہ کسی بھی موقع پر آمریت کا کوئی شائبہ بھی پیدا ہوا ہو۔آپ نے نہایت دانشمندی اور حکمت سے حکومت کی، آپ نے محبت سے حکومت کی۔اور اگر یہ تین پہلو موجود ہوں تو پھر آمریت کا سراٹھانا ناممکن ہے۔آمریت کا حکمت سے کوئی رشتہ نہیں، نہ ہی دانشمندی یا محبت سے آمریت کا ان سب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔تو یہ وہ انتظامی طریق ہے، جو احمد یوں کو خواہ وہ کسی سطح پر خدمت کر رہے ہوں، اپنانا چاہئے۔انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اس اعتماد کو، جو ان پر کیا گیا ہے، قائم رکھیں۔اور کسی بھی رنگ میں اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں۔اور اگر یہ دونوں پہلو اختیار کئے جائیں تو بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔یہ وہ مثالی معاشرہ ہے، جو جماعت احمدیہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اور اسی مقصد کے حصول کے لئے آپ کو اپنی تمام قوتیں خرچ کرنی چاہئیں۔لیکن پھر بھی ہر پہلو پر نظر رکھنے اور بہترین ماحول کے پیدا کرنے کے باوجود بھی کوئی نہ کوئی ناروا بات ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر کسی کے غلط انداز فکر یا رجحان یا کسی کے غلط رویہ یا غلط طرز عمل کے نتیجہ میں اختلافات سراٹھا سکتے ہیں۔کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ یہ تیسری بات ہے، جو میں واضح کرنا چاہتا ہوں۔اگر آپ کو کسی عہدیدار سے شکایت ہے تو آپ کا حق ہے بلکہ ذمہ داری ہے کہ اس کے توسط سے مرکز کو فوری مطلع کریں۔اگر آپ کو خدشہ ہو کہ وہ یہ رپورٹ آگے نہیں بھجوائے گا تو اس کا طریق یہ ہے کہ ایک کاپی براہ راست مرکز کو بھجوا دی جائے۔یہاں میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جہاں تک احمدیوں اور - ــليفة 86