تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 937
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 09 نومبر 1984ء چنانچہ پیشتر اس کے کہ میں تحریک کرتا، میں نے تمام افریقہ کے مبلغین کو یہ لکھوایا ہوا ہے کہ آپ پوری طرح جائزہ لیں کہ کس طرح ان غریبوں کی جماعت مدد کر سکتی ہے؟ کون سا بہترین ذریعہ ہے اور اس میں مسائل کیا در پیش ہوں گے؟ صرف ٹرانسپورٹ ہی ایک ایسی چیز ہے کہ اگر ہم ٹرانسپورٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں اپنے لئے تو سارے وسائل کام آجائیں گے لیکن ہم نہیں کر سکیں گے۔لیکن اس سے قطع نظر ہمیں اپنے دل کا اطمینان ہونا چاہیے۔میں جو تحریک کر رہا ہوں، وہ اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ قطع نظر اس کے کہ کام ہماری طاقت سے بڑھ کر ہے۔ہماری نیت یہ ہونی چاہئے کہ ہم اپنے رب کے حضور اپنے ضمیر کو مطمئن پائیں۔ہمارے دل میں یہ تسکین ہو کہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے، جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔شدید مشکلات میں مبتلا تھے، اپنے وطنوں میں احمدی بے وطن ہورہے تھے، ان کے اقتصادی ذرائع پر ضر میں لگائی جا رہی تھیں، ان کو ہر طرح بدحال اور مفلوک الحال کیا جار ہا تھا ، ان پر دنیا کو احمدی مسلمان بنانے کی ذمہ داریاں تھیں، ان کو بے شمار میدانوں میں لٹریچر پر خرچ کرنا تھا تنظیموں پر خرچ کرنا تھا، مساجد پر خرچ کرنا تھا، نیکیوں کے نئے سے نئے رستے کھلتے چلے آرہے تھے اور ہر آواز پر وہ اپنی ساری طاقتیں خرچ کر کے اپنی طرف سے جیبیں خالی کر چکے تھے، اس وقت خدا کی نظریہ دیکھے گی اور دیکھ رہی ہے کہ اسی جماعت کو جب تحریک کی گئی کہ آج اس بھوک کے دن مٹانے کے لئے بھی کچھ نہ کچھ پیش کرو تو وہ ضرور کچھ نہ کچھ پیش کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں، جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان لوگوں میں سے بنایا ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم ہیں؟ احمدی ہیں یادشمن ہیں احمدیت کے؟ جہاں بھی تکلیف ہوگی ، وہاں جماعت احمدیہ ضرور تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔چنانچہ ابھی کراچی میں کچھ عرصہ پہلے جب بہت خطرناک بارش ہوئی اور بہت ہی زیادہ تکلیف پہنچی ہے، غریب گھرانوں کو تو احمدی عورتیں لجنہ کی ، جو کچھ ان کے بس میں تھا، کوئی کمبل، کپڑے، کوئی کھانا لے کر غریبوں کے گھر پہنچیں اور خدمت شروع کی۔اور کوئی تبلیغ کی نیت نہیں تھی، نہ ان کا ارادہ، نہ اس خیال سے وہاں وہ گئیں۔صرف تکلیف دور کر رہی تھیں تو بعض احمدی بہنوں نے مجھے جو یہ واقعات لکھے ہیں، حیرت انگیز ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ بعض لوگ اکٹھے ہو کر ہمارے پیچھے پڑ گئے کہ تم ہمیں بتاؤ تم کون ہو اور کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں نہیں بتانا چاہتے تمہیں تکلیف ہوگی۔اور اگر ہم نے بتادیا ، ہوسکتا ہے، تم ہم سے لینا بند کر دو۔تم اپنی ضرورت پوری کرو، تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کون آیا تھا؟ کیوں آیا تھا؟ کیا دے گیا ؟ اس پر وہ کہتے ہیں کہ عجیب نظارے ہم نے دیکھے۔بعض لوگوں نے کہا کہ دیکھو، ہم یہ جانتے ہیں 937