تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 936
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 نومبر 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک بھجوانے لگے ہیں تو اچانک ان کی دلی ہمدردی، انسانی ہمدردی جاگ گئی اور بڑی تیزی کے ساتھ وہاں ایک دوسرے سے انہوں نے دوڑ شروع کر دی۔اور دوڑ کا آخری مقصد کیا ہے کہ اس ساری قوم کو ہم اپنا غلام بنائیں۔اس کے ساتھ چاڈ بھی ہے، وہاں بھی لوگ بھوکوں مر رہے ہیں ، اس کا کوئی خیال نہیں آرہا اور دیگر ممالک بھی ہیں۔میں جب مجھے یہاں کے بعض دوستوں نے بھی توجہ دلائی لیکن اس سے پہلے ہی میں سوچ رہا تھا، افریقہ کے لئے بھی تحریک کروں تو بعض دوستوں کے خطوں سے مجھے خیال آیا کہ وہ سمجھ نہیں رہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ چنانچہ ایک صاحب نے تو از خود ہی ان کو چندہ دے دیا، ابے سینیا کے لئے۔ان کو جواب میں ، میں نے یہ لکھا:۔الامام جنة يقاتل من ورائه ( صحیح بخاری، کتاب الجهاد والسیر ، باب یقاتل من وراء الامام و یتقی به) امام تو ڈھال ہوتا ہے، اس کے پیچھے رہ کر لڑنا چاہیے۔تم نے جلد بازی کی ہے۔مجھے خود احساس ہے، تم سے زیادہ احساس ہے کہ کیا ہورہا ہے؟ ساری دنیا کی ضرورتیں میرے پیش نظر ہیں۔اسلام کی ساری ضروریات پیش نظر ہیں۔اور تمہارے لکھنے سے پہلے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ تمہیں ساری بات سمجھا کر پھر تحریک کروں گا۔جہاں تک جماعت کی استطاعت کا تعلق ہے، اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ساری جماعت اپنی ساری دولت بھی لٹا دے تو اس وقت جو بھوک کا دن آگیا ہے، اس کو دور نہیں کر سکتی۔آٹے میں نمک کے برابر بھی ہمارے اندر توفیق نہیں کہ ہم ان لوگوں کی تکلیف دور کر سکیں۔لیکن اس وقت ایک میدان خالی ہے، جہاں يَّتِيمَا ذَا مَقْرَبَةِ موجود ہے یا أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةِ بھی موجود ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ چاڈ کے فرانس سے تعلقات ہیں، وہ مدد دے یا لیبیا سے تعلقات ہیں، قذافی کیوں نہیں دیتا ان کو؟ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نائیجر کا فرق ہی کوئی نہیں پڑتا ، جتنے مرضی بھوکے مر جائیں۔ان سے کیا فرق پڑتا ہے؟ نہ وہ اس طرف کے اور نہ وہ اس طرف کے۔936 أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةِ بھی وہاں موجود ہیں۔