تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 933 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 933

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اکتوبر 1984ء زمانہ کے سارے ترجمہ آج کے صاحب علم لوگوں نے رد کر دیئے ، سوائے روی ترجمہ کے۔اور روی ترجمہ سے متعلق جہاں رائے ملی ہے، انہوں نے حیرت انگیز تعریف کی ہے۔روسیوں نے بھی، جو مثلاً پاکستان میں سکالرز ہیں، یہاں کے ماہرین نے بھی۔سب نے کہا ہے کہ بہت ہی اعلیٰ معیار کا ترجمہ ہے۔صرف لکھنے کی طرز میں اس زمانے سے اب کچھ تبدیلی پیدا ہوئی ہے، اس کو ماہرین کہتے ہیں: ٹھیک کروالیا جائے تو ہر لحاظ سے معیاری ہے۔تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین نئی زبانوں میں قرآن کریم شائع کرنے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔اور اس کے لئے روپیہ بھی موجود ہے۔Italian ترجمہ کے لئے ڈاکٹر (عبد السلام ) صاحب نے پیش کش کی تھی کہ میں اپنی طرف سے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اور چونکہ نیکی سے آگے بڑے بچے پیدا ہوتے ہیں، نیکی بڑی Fertile چیز ہے۔جب مکمل کر لیا تو ان کا اتنا لطف آیا اس کا کہ وہ ساتھ ہی یہ درخواست کر گئے ہیں کہ اس کی طباعت کا خرچ بھی مجھے برداشت کرنے کی اجازت دی جائے۔تو جس اخلاص اور محبت سے انہوں نے ترجمہ کروایا تھا اور جس۔طرح انہوں نے ظاہر کیا تو میں نے ان سے حامی بھر لی ہے کہ ہاں ٹھیک ہے، آپ شائع کروا ئیں۔اسی طرح روسی زبان کے متعلق چوہدری شاہ نواز صاحب نے پہلے ترجمہ کے متعلق درخواست کی تھی۔ان کا پیچھے پیچھے خط پہنچ گیا کہ اس کے سارے اخراجات میں برداشت کرنا چاہتا ہوں۔ان کو بھی میں نے اس کے لئے اجازت دے دی اور وہ خدا کے فضل سے بالکل تیار ہیں۔تو فرانسیسی کے لئے صد سالہ جو بلی سے رقم مل جائے گی انشاء اللہ۔یعنی پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔جماعت کے لئے کاموں کی تیاری رکھے جماعت، آگے بڑھنے کے لئے تیاری کرے تو اللہ تعالی کوئی کمی کسی طرح کی بھی رستے میں حائل نہیں ہونے دے گا ، انشاء اللہ تعالیٰ۔اور یہی ہے، اصل ہمارا انتقام دشمنوں سے۔وہ جتنا بدیوں میں بڑھتے چلے جارہے ہیں، ہم اتنا نیکیوں میں ترقی کر رہے ہیں۔جتناوہ ہمیں اسلام سے کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، اتنازیادہ تیزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جارہا ہے۔ایسی جماعت سے کون مقابلہ کرسکتا ہے، جس کی دوڑ ہی نیکیوں میں ہے؟ اور وہ مخالف سمت میں دوڑ رہے ہیں؟ کیسی بے وقوفی کی بات ہے۔قرآن کریم نے فرمایا تھا:۔وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ کہ ہم تمہارے لئے دوڑ مقرر کرتے ہیں اور وہ دوڑ یہ ہے کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔اور ہم تو نیکیوں کو قبلہ بنا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔اور دوڑنے کی خواہش ان کو ہے لیکن سمت کا پتہ 933