تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 932
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اکتوبر 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک انہیں مہیا کریں اور ذاتی تعلق کی بنا پر وہ لٹریچر پیش کریں۔دوسرے پتے اس کثرت سے اکٹھے ہو جائیں کہ ڈاک کے ذریعے بیس ہزار تمہیں ہزار فی الحال میرا اندازہ یہ ہے کہ اس کو بڑی جلدی بڑھا کر ایک لاکھ تک پہنچا دیا جائے۔ایک لاکھ پتوں کا میں نے مطالبہ کیا ہے۔اور ابھی تک بعض جماعتوں کی طرف سے اس میں کمزوری ہے۔انگلستان بھی پتے مہیا کرنے میں کمزور ہے۔حالانکہ میں نے بار بار تاکید کی تھی۔بعض دور کے ممالک نے بڑی اچھی Response دکھائی ہے لیکن انگلستان میں ابھی کمزوری ہے۔میں نے اہل عرب کے پتے مانگے تھے تو انہوں نے وہ ڈائریکٹری اٹھا کے یا شاید عرب Embassies کی کتابیں منگوا کر ان سے پتے نوٹ کر کے بھیج دیئے۔حالانکہ اس قسم کے پتے نہیں چاہئیں۔پتے ایسے چاہئیں کہ جہاں پتہ بھیجنے والے کی نظر ہو کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے؟ عمر اس کی کتنی ہے؟ رجمان کیا ہیں؟ ضروری تو نہیں کہ جتنے پتے آپ بھیجیں، ان سب کولٹریچر بھجوا نا مناسب بھی ہو۔اس لئے یہاں بھی کافی چھان بین کرنی پڑتی ہے۔تو ایک پہلو سے تو انگلستان نے ابھی کمزوری دکھائی ہے لیکن ایک اور پہلو سے غیر معمولی طور پر خدمت بھی کی ہے۔یہ سارا کام پتوں کو مرتب کرنا اور پھر یاد دہانیاں کروانا، لجنہ اماءاللہ یو کے کر رہی ہے اور نہایت مستعدی سے کام کر رہی ہے۔قریباً تیں ہزار پتہ جات کو وہ مرتب کر چکے ہیں۔اور پھر ان کو کارڈ پر منتقل کرنا اور پھر ان کو کمپیوٹر میں Feed کرنا، بہت بڑا کام ہے، تیاری کا۔لیکن مجھے اندازہ۔ہے، انشاء اللہ تعالیٰ جس وقت ہم لٹریچر کے لحاظ سے تیار ہوں گے، اس کے ساتھ یہ بھی تیار ہو چکا ہوگا۔تو ایک نئے دور میں جماعت داخل ہونے والی ہے، بہت وسیع تبلیغ کے دور میں۔اس کے لئے آپ بھی تیاری کریں اور جو علم دوست ہیں، احباب، وہ اپنی خدمات پیش کریں اور مضامین لکھیں، غیروں کے لٹریچر کی نگرانی کریں۔امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ یہ کام اب بڑی تیزی سے آگے بڑھے گا۔ایک بہت بڑی خوش خبری اسی ضمن میں یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا کہ وہ Italian ترجمہ قرآن کا کام اپنی نگرانی میں مکمل کروائیں۔چنانچہ پرسوں وہ آکر مجھے وہ آخری شکل میں مسودہ دے گئے ہیں۔مکمل ہو چکا ہے خدا کے فضل سے۔بہت سی کمپنیوں کی رائے لینے کے بعد گزشتہ ترجموں کو رد کر دیا گیا، ان میں خامیاں تھیں۔اس ترجمہ کے متعلق اب رائے یہی ہے کہ بہت ہی عمدہ، اعلیٰ معیار کا ترجمہ ہے۔چونکہ قرآن کریم میں احتیاط زیادہ کرنی پڑتی ہے، اس لئے تھوڑی سی اور احتیاط کی جائے گی اور پھر انشاء اللہ امید ہے کہ اسی سال پہ شائع ہونے کے لئے دے دیا جائے گا۔فرانسیسی ترجمہ بھی تمام مراحل سے گزر کر اب مکمل ہو چکا ہے۔روسی ترجمہ ، جو حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کے زمانہ میں یہاں سے کروایا گیا تھا ، وہ حسن اتفاق سے ایسا اچھا کیا گیا کہ اس کی 932