تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 927 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 927

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اکتوبر 1984 ء جو بعض جزائر کی جماعتیں ہیں، ان میں ماریشس اور بچی کو توجہ کرنی چاہئے۔وہ بدقسمتی سے ان جماعتوں میں ہیں، جن کی یا اطلاع نہیں پہنچ سکی یا واقعہ وہ گزشتہ سال کی نسبت کچھ پیچھے رہ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم فرمائے اور گزشتہ کمی کو پورا کرنے کی توفیق بخشے۔اعد او د شمار تو بہت لمبے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ خلاصہ پیش کرنے کے نتیجہ میں آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اس وقت مالی لحاظ سے جماعت باوجود مشکلات کے خدا کے فضل سے چندوں میں آگے جارہی ہے۔اور یہ چندے کے لئے تھرما میٹر کے طور پر کام کرنے والی چیز ہے اور یہ دراصل اخلاص کا مظہر ہیں۔روپے تو کوئی ایسی حقیقت نہیں رکھتے خدا کے سامنے۔اگر خدا تعالیٰ نے ویسے روپے دینے ہوتے کاموں کے لئے تو آسمان سے بھی پھینک سکتا ہے، خزانے کھول سکتا ہے اپنے۔وہ آپ کے ذریعہ کیوں روپے وصول کرتا ہے؟ اس میں کیا حکمت ہے؟ اس میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ آپ کا اخلاص ترقی کرتا ہے اور تزکیہ نفس ہوتا ہے۔اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتی ہیں، دونوں چیز ہیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنے عزیز مال سے جدا ہوتے ہیں، ان کی کیفیت اس قربانی کے بعد کچھ اور ہوتی ہے، اس قربانی سے پہلے کچھ اور ہوتی ہے۔ان کی محبت خدا سے بڑھ چکی ہوتی ہے، ان کا تعلق زیادہ بڑھ گہرا ہو جاتا ہے، خدا کے پیار کے زیادہ جلوے وہ پہلے کی نسبت دیکھنے لگتے ہیں اور ان کی کیفیات میں فرق پڑ جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے عام طور پر چندہ کا نام زکوۃ رکھا ہے۔زکوۃ کا مطلب ہے، بڑھنے والی چیز اور بڑھانے والی چیز۔جس کو ادا کرنے کے بعد آپ کی کمی نہیں ہوتی بلکہ اموال بڑھنے لگتے ہیں۔اور زکوۃ کا مطلب ہے، پاکیزگی۔چنانچہ ایک ہی لفظ میں دونوں پیغام دے دیئے کہ چندے ادا کرنے والے، خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے والے، اپنے مالوں میں بھی برکت دیتے ہیں اور جہاں ان کا مال جاتا ہے، وہاں بھی برکت پڑتی ہے اور اپنی روحانیت اور اخلاص میں بھی برکت دیتے ہیں۔اور ان کو دیکھ کر دوسرے بھی برکت پکڑتے ہیں۔تو یہ ہے فلسفہ چندے کا۔کیوں اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس بات پر آمادہ کر کے ان کے بھی پیسے لیتا ہے؟ اور جہاں تک اس کے کھاتے کا تعلق ہے، پہلا بھی اسی کا دیا ہوتا ہے۔لیکن بعد میں پھر اتنا زیادہ دے دیتا ہے کہ دینے والا اگر غور کرے تو صرف شرمندہ ہو گا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا۔آئندہ مجھ سے وعدے کئے جنت کے، مجھ پر فضلوں کی بارشیں نازل فرمائیں، مجھے سے پیار کا سلوک کیا اور جتنا میں نے دیا تھا، وہ بھی زیادہ واپس کر دیا۔تو اللہ کا سلوک ہے جہاں تک، وہ تو یہی رہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ یہی رہے گا۔927